6.20.2020

کیا بیٹی اپنے والد کے پیر چوم سکتی ہے؟؟؟

                    السلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاته

مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیجئے. کہ کیا بیٹی اپنے ابو کے پاؤں چوم سکتی ہے؟ جواب عنایت فرمادیجئے گا جزاک اللہ خیرا

                          سائل محمد بندہ خدا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                  الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

صورت مسئولہ میں استاذ اور ماں باپ کے قدم بوسی جائز ہے، جیساکہ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ (العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ جلد نہم صفحه 67 نصف آخر میں ہے') کہ پیر وعالم دین وسادات وسلطان عادل والدین کی قدم بوسی جائز ہے، اور اسی کتاب وصفحه 45 پر ہے اولیاء وعلماء ومعظمان دین کے ہاتھ پاؤں چومنا مستحب بلکہ مسنون ہے' صحابۂ کرام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم بلکہ خود زمانۂ رسالت سے رائج ہے' اور حدیث شریف میں ہے("عن زارع وکان فی وفد عبد القیس قال لما قدمنا المدینۃ فجعلنا نتبا در من روا حلنا فنقبل ید رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ورجله")یعنی؛- حضرت زارع جو وفد عبد القیس میں شامل تھے، فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے، تو ہم جلد جلد اپنی سواریوں سے اتر پڑے, اور ہم نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دست مبارک اور پائے مبارک کو بوسہ دیا ﴿مشکوۃ شریف صفحه 402﴾اس حدیث شریف سے ہاتھ پاؤں چومنے کا جواز ثابت ہے' [فتاویٰ برکات رضا صفحه 263]اور حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ جاء الحق میں فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ("ان التقبیل علی خمسۃ اوجه قبلۃ الرحمۃ کقبلۃ الوالد و لدہ وقبلۃ التحیۃ کقبلۃ قبلۃ المومنین بعضہم لبعض وقبلۃ الشفقۃ کقبلۃ الولد بوالدیه و قبلۃ المودۃ کقبلۃ الرجل اخاہ وقبلۃ الشہوۃ کقبلۃ الرجل امرأته وزاد بعضہم قبلۃ الدیانۃ وھی قبلۃ الحجر الاسود")بوسہ لینا پانچ طرح کا ہے, رحمت کا بوسہ جیسے کہ باپ اپنے فرزند کو چومے، ملاقات کا بوسہ جیسے کہ بعض مسلمان بعض کو بوسہ دیں، شفقت کا بوسہ جیسے کہ فرزند اپنے ماں باپ کو بوسہ دے، دوستی کا بوسہ جیسے کہ کوئی شخص اپنے دوست کو بوسہ دے، شہوت کا بوسہ جیسے کہ شوہر اپنی بیوی کا بوسہ لے, بعض نے زیادہ کیا، دین داری کا بوسہ اور وہ سنگ اسود کا چومنا ہے'(جاء الحق حصہ اول صفحه 323) {بہار شریعت حصّہ 16 صفحه 99}اور اسی کا ایک جواب ممتاز الفقہاء حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ محارم کے جن اعضا کی طرف نظر کرسکتا ہے ان کو چھو بھی سکتا ہے جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو مرد اپنی والدہ کے پاؤں دبا سکتا ہے مگر ران اس وقت دبا سکتا ہے جب کپڑے سے چھپی ہوئی ہو[بہار شریعت جلد سوم حصہ 16 ص 445] لہذا تمام تمام تر حوالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محارم کا جن جن اعضا کی طرف دیکھنا جائز ہے، ان اعضا کا چھونا بھی جائز ہے بشرطیکہ دونوں میں شہوت کی آمیزش نہ ہو، اور شہوت کا غلبہ بھی نہ ہو اسی طرح سے بیٹی کا اپنے والد کے پاؤں کو چومنا بھی جائز و مستحسن ہے، جبکہ خوف و فتنہ نہ ہو-"

                          واللہ اعلم بالصواب

             کتبہ العبد فقیر محمد عمران رضا ساغر

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only