7.21.2020

حرام مال سے پڑھائی کی اجرت لینا کیسا ہے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

علماۓ کرام کی خدمت میں ایک مسٸلہ عرض ہے کہ اگر کوٸ عالم دین کسی بچہ کو قرآن کا درس دے اور بچہ کے گھر والے کی حرام کماٸ ہو تو کیا وہ عالم دین اپنی اجرت لے سکتا ہے جواب عنایت فرماۓ مہربانی ہوگی 

محمد نور عالم تنسکا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

صورت مسولہ میں اگران عالم دین کو معلوم ہےکہ جو رقم انہیں دی گئ وہ بعینہ کسب حرام کی ہے تو ایسی رقم لینا انہیں جائز نہیں اور اگر معلوم نہیں ہے کہ یہ رقم خالص کسب حلال سے ہے یا کسب حرام سے یا اس میں دونوں مخلوط ہیں تو ایسی رقم لینا جائز ہے کہ اصل حلت ہے چنانچہ فتاوی رضویہ جلد نہم ص ٨ میں ہے کہ "یہ صورتیں اسوقت تھیں جب اسے مال کا حال معلوم ہو جو اسکی مزدوری میں دیاجاتا ہےکہ خاص مال رنڈی کے پاس کہاں سے آیااور اس تک کیونکر پہونچتا ہےآیا عین حرام میں سے ہے یا خالص حرام سے یا دونوں مخلوط ہیں اگر یہ کچھ نہیں کہ سکتا نہ اسے کچھ خبرکہ خاص مال جو اسے دیاجاتا ہےکس قسم کا ہے تو اس صورت میں فتوی جواز ہے کہ اصل حلت ہے جب تک خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہو لینے سے منع نہ کریں گے ہندیہ میں ہے"اختلف الناس فی اخذہ لجائزة من السلطان قال بعضہم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرام قال محمد رحمہ اللہ تعالی وبہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وہو قول ابی حنیفة واصحابہ (فتاوی رضویہ جلد نہم نصف اول ص ٨ بحوالہ فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص٢٣٦،٢٣٧) لہذا اگر اس رقم کی اصلیت معلوم ہو کہ یہ حرام ہی کی ہے تو اس کا لینا ناجائز اور اگر معلوم نہ ہو تو اس کا لینا جائز ہے

 واللہ تعالی اعلم باالصواب 

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی کشنگنج

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only