7.06.2020

کیا نکاح میں دلہن کے ساتھ باپ کا نام لینا ضروری ہے


                  السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہندہ کی والدہ نے دوسری شادی کی۔ ہندہ کے نکاح کے دوران ہندہ کے نئے باپ (والدہ کے دوسرے شوہر) کا نام ہندہ کے نام کے ساتھ لگایا گیا۔ تو کیا نکاح منعقد ہو جائے گا؟ یا نہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

           سائل محمد التمش رضوی چنڈی گڑھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

               الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

صورت مذکورہ میں نکاح منعقد ہوجائیگا اگرچہ ہندہ کے والد کا نام نہ لگاکر نئے باپ کا نام لگایا گیا ہو مگراس کے حقیقی باپ ہی کا نام لکھا جانا چاہئیےچنانچہ فتاوی بحرالعلوم ج دوم ص٣١٦ پر ہے "نام اس کے حقیقی والد ہی کا لکھا جانا چاہئیے جس نے پالا ہے اسکا نہیں ہاں اگر غلطی سے اس کا نام بھی درج ہوگیاتو اس غلط اندراج سے نکاح پر کوئ اثر نہیں پڑے گا"

                             واللہ تعالی اعلم

            کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only