کیا نکاح میں دلہن کے ساتھ باپ کا نام لینا ضروری ہے


                  السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہندہ کی والدہ نے دوسری شادی کی۔ ہندہ کے نکاح کے دوران ہندہ کے نئے باپ (والدہ کے دوسرے شوہر) کا نام ہندہ کے نام کے ساتھ لگایا گیا۔ تو کیا نکاح منعقد ہو جائے گا؟ یا نہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

           سائل محمد التمش رضوی چنڈی گڑھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

               الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

صورت مذکورہ میں نکاح منعقد ہوجائیگا اگرچہ ہندہ کے والد کا نام نہ لگاکر نئے باپ کا نام لگایا گیا ہو مگراس کے حقیقی باپ ہی کا نام لکھا جانا چاہئیےچنانچہ فتاوی بحرالعلوم ج دوم ص٣١٦ پر ہے "نام اس کے حقیقی والد ہی کا لکھا جانا چاہئیے جس نے پالا ہے اسکا نہیں ہاں اگر غلطی سے اس کا نام بھی درج ہوگیاتو اس غلط اندراج سے نکاح پر کوئ اثر نہیں پڑے گا"

                             واللہ تعالی اعلم

            کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0