کیا حج کرنے سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

حضرت میرا ایک سوال ہے کہ انسان جب حج کرتا ہے تو کیا اس سارا گناہ معاف ہو جاتا اور وہ جو نمازِ ترک کی ہے تو کیا وہ معاف ہو جاے گا یا نہیں براۓ کرام حدیث کی روشنی میں جواب عطا فرماٸیں مہربانی ہوگی 

سائل محمد بلال بنارس الھند 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں جس نے پاک مال ، پاک کمائی، پاک نیت سے حج کیا اور اس میں لڑائی جھگڑا نیز ہر قسم کے گناہ اور نافرمانی سے بچاپھر حج کے بعد فورا مر گیا اتنی مہلت نہ ملی کہ جو حقوق اللہ (نمازرورہ زکوٰة وغیرہ) حقوق العباد(کسی بندےپرظلم وزیادتی اسکی حق تلفی وغیرہ) اس کے ذمے تھے انہیں ادا کرنا یا ادا کرنے کی فکر کرنا تو حج قبول ہونے کی صورت میں امید قوی ہے کہ اللہ تعالی اپنے تمام حقوق معاف فرما دے اور حقوق العباد کو اپنے ذمہ کرم پر لے کرحق والوں کو قیامت کے دن راضی کرےاورخصومت سے نجات بخشے (اعجب الامداد لامام احمدرضا) اور اگر حج کے بعد زندہ رہا اور حتی الامکان حقوق کا تدارک کرلیا یعنی سالہائے گزشتہ کئی مابقی زکوۃ ادا کر دی چھوٹی ہوٸی نماز اور روزے کی قضاء کی جس کا حق مار لیا تھا اس کو یا مرنے کے بعد اس کے وارثین کو دے دیا جس سے تکلیف پہنچائی تھی معاف کرالیا وہ صاحب حق نہ رہا اس کی طرف سے صدقہ کر دیا اگرحقوق اللہ اور حقوق العباد میں سے ادا کرتے کرتے کچھ رہ گیا تو موت کے وقت اپنے مال میں سے ان کی ادائیگی کی وصیت کرگیا خلاصہ یہ کہ ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد میں سے چھٹکارے کی ہر ممکن کوشش کی تو اس کے لیے بخشش کی اور زیادہ امید ہے (ایضا) اور ہاں حج کے بعد قدرت ہونے کے باوجود ان امور سے غفلت برتی انہیں ادا نہ کیا تو یہ سب گناہ ازسرنو اس کے ذمہ ہوں گے اس لیے کہ حقوق اللہ حقوق العباد تو باقی ہی تھے ان کی ادائیگی میں تاخیر کرنا پھر تازہ گناہ ہوا جس کے لیے وہ حج کافی نہ ہوگا اس لئے کہ حج گزرے گناہوں یعنی وقت پر نماز روزہ وغیرہ ادا نہ کرنے کی تقصیر کو دھوتا ہے جس سے نماز اور روزہ ہرگز معاف نہیں ہوتے نہ آئندہ کے لئے پروانہ آزادی ملتا ہے بلکہ مقبول حج کی نشانی یہ ہے کہ حاجی پہلے سے اچھا ہو کرواپس ہو (ایضا) آج کل بہت سے حضرات برسہا برس حقوق اللہ یعنی نماز روزہ اور زکوۃ وغیرہ نہیں ادا کرتے نیز حقوق العباد کی کچھ پرواہ نہیں کرتے کسی کو قتل کرتے ہیں کسی کی زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں کسی کا مال چرا لیتے ہیں کسی کا روپیہ لے لیتے ہیں اور کسی کو ستاتے ہیں پھرحج کرکے آتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا سب گناہ معاف ہو گیانہ اب چھوٹی ہوٸی نمازیں پڑھنی ہیں نہ بندوں کے حقوق معاف کرانا ہے یہ سب ان کی غلط فہمی ہے( انوارالحدیث ص٢٦٣ تا ٢٦٥ شبیر برادرز اردو بازار لاہور

واللہ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ عبید اللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے