عورت کی طرف سے قربانی ہو تو اس میں باپ کا نام دیا جائے یا شوہر کا

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

عورت کے نام سے اگر قربانی ہوتو اس میں باپ کانام دیا جاے یا شوہر کا جواب عنایت فرماٸیں مہربانی ہوگی 

سائل محمد شاکر رضوی جہاں آباد یو پی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

عورت کے نام سے اگر قربانی ہو تو باپ و شوہر میں سے چاہیں جسکا نام لیں یا چاہیں تو دونوں میں سے کسی کا نام نہ لیں بہر صورت قربانی ہوجائے گی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے وہ سب جانتا ہے کہ قربانی کس کی طرف سے ہے جیساکہ حضور فقیہ الملت والدین مفتی جلال الدین احمد قبلہ امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان فتاوی فیض الرسول میں اسی طرح کے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں جس عورت کی طرف سے قربانی ہو خدائے علیم و خبیر خوب جانتا ہے کہ وہ فلاں کی لڑکی فلاں کی بیوی ہے اس لئے صرف عورت کا نام لینا کافی ہے فلاں بنت فلاں یا فلاں زوجۂ فلاں کہنا ضروری نہیں اور اگر کہدے تو کوئی حرج نہیں " اھ( ج:2/ص:448/ قربانی کا بیان / شبیر برادرز اردو بازار لاہور)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 20---جولائی---2020---بروز پیر

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ