7.06.2020

جو امام فجر نہ پڑھیں اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے


              السلام عليكم ورحمۃ اللّٰه تعالیٰ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ زید امام ہے اور صرف چار وقت کی نماز پڑھاتا ہے اور نماز فجر میں نہیں اٹھ پاتا جبکہ عشاء کے بعد جلدی سونے کی بھی کوششیں کرتا ہے پھر بھی فجر میں اٹھ نہیں پاتا تو ایسے امام کے پیچھے نمازیں ادا کرنا جائز ہے 
اور کوئی عمل بھی بتائیں کی فجر میں نیند کھل جائے 

     المستفتی رئیس احمد سبحانی بستوی یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

  الجواب بعون الملک الوہاب الھم ھدایت الحق والصواب

فرض نماز قضاکرنے میں اگرامام لاپرواہی کرتاہوتووہ علانیہ توبہ استغفارکرے اورپابندی نماز کی فکرکرے اگرفجرمیں نہیں اٹھ پاتاہے توالارم گھڑی خرید لے اگروہ نہیں خریدسکتاہے تومقتدی چندہ کرکے خرید دیں یاتومسجد کےذمہ داران خودخریدکرکےدیں اوراگر نمازوں کے قضاکے سبب توبہ نہ کرے تواس امام کورخصت کردے کی ایسےشخص کی امامت درست نہیں اس کےپیچھےنمازمکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے یعنی اس کی اقتدامیں پڑھی گئ نماز کادوبارہ پڑھناواجب ہوگادرمختار مع شامی جلداول ۳۳۷ کل صلاۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھااھ (ماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلداول صفحہ ۱۲۲) 

                       واللہ اعلم بالصواب
 
کتبہ غیاث الدین قادری دارالعلوم شھیداعظم دولہاپور گونڈہ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only