مطلقا عورت اپنے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو کیا حلالہ ضروری ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مسلہ یہ ہیے کہ مطلقہ عورت کئ سالوں کے بعد دوبارہ اپنے شوہر سے نکاح کرنا چاہے۔اور وہ شوہر بھی اس بات سے راضی ہیے کہ اس کا نکاح مطلقہ عورت سے ہو جاے تو کیا نکاح ہو جاےگا ؟؟ کیا حلالہ کرنا ہوگا ؟؟ اگر حلالہ ۔تو کیا بغیر حلالہ کے نکاح ہو سکتا ہے ؟؟؟؟

سائل ارشد رضا قادری الھند 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

اگر مطلقہ مغلظہ ہے تو اس کا نکاح بغیر حلالہ شوہر اول سے ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا چاہے کتنے ہی سالوں بعد کرے  جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے  فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرۃ " اھ( پ:2/ع:13) اور حدیث شریف میں ہے عن عائشۃ قالت جاءت امرأۃ رفاعۃ القرظی الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقالت انی کنت عند رفاعۃ فطلقنی فبت طلاقی فتزوجت بعدہ عبد الرحمن بن الزبیر وما معہ الا مثل ھدبۃ الثوب فقال أ تریدین ان ترجعی الی رفاعۃ قالت نعم قال لا حتی تذوقی عسیلتہ و یذوق عسیلتک - رواہ البخاری و المسلم " اھ (مشکوٰۃ شریف ج:2/ص:293/ باب المطلقۃ ثلٰثا / مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور) اور اگر بغیر حلالہ نکاح کرلیا تو دونوں زناکار و بدکار لائق قہر قہار مستحق عذاب نار ٹھہریں گے حکم شرع معلوم ہوتے ہی ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں اور اگر ایسا نہ کریں تو انکا مکمل طور پر سماجی بائیکاٹ کردیا جائے یعنی انکے ساتھ کھانا پینا سلام و کلام اٹھنا بیٹھنا وغیرہ سب بند کردیا جائے  ارشاد باری تعالیٰ ہے و اما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین " اھ( سورۂ انعام آیت:68) اور اگر مطلقہ بائنہ ہے تو حلالہ کی ضرورت نہیں بغیر حلالہ نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتا ہے 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 18---جولائی---2020---بروز ہفتہ

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ