نماز میں ایک آیت کو چار سے پانچ بارپڑھ دیا تو کیا حکم ہے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 

کیافرماتےہیں علماۓکرام ومفتیان عظام مسلہٕ ذیل میں کہ زیدنےفجرکی فرض میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ ملاٸی اورپہلےہی آیت میں بھول گیا اسی آیت کو چار سے پانچ بارپڑھ دیا پھربھی یاد نہ آٸی اسکے بعد دوسری سورہ پڑھ کر نماز مکمل کیا۔تو کیا اس طرح نماز ہوگٸی علماۓکرام رہنماٸی فرماٸیں۔

المستفتی محمد شاہنواز عالم رتنا گیری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

سورہ شروع کی ابھی تین چھوٹی آیتوں کے مقدار نہیں پڑھ پایا تھا کہ بھول گیا پھر اسے دہرایا مگر یاد نہ آیا اور اسے چھوڑ کر دوسری سورہ یا آیتیں پڑھیں تو نماز ہو گئی سجدہ سہو کی ضرورت نہیں اور اگر سوچنے میں تین بار سبحان اللہ کہنے کے مقدار دیر ہو گئی پھر اس کے بعد پڑھنا شروع کیا تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہے ( بحوالہ فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم صفحہ 125) ( حوالہ مسائل سجدہ سہو صفحہ ,66 ) ہاں اگر آیت کو تین چار بار پڑھنے کی کوشش کیا اور پڑھتے وقت قرآت میں ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی فاسد، ہوجاتا ہے تو نماز نہیں ہوئی اور سجدہ سہو سے کام نہیں چلے گا دوبارہ پڑھے؛

ھذا ماظھرلی وھو سبحانہ و تعالٰی واحکم واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمد معصوم رضا نوری عفی عنہ ۲۵/ ذی القعدہ ۱۴۴۱ہجری ۱۷/ جولائی ۲۰۲۰عیسوی  بروز جمعہ مبارکہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے