کن کن وقتوں میں کھانا کھانے کی ممانعت ہے؟؟

السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

۔سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کھانا کھانا کس وقت منع ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی آپ کی 

 سائل عارف رضا کانپوری یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

کھانا کھانا عند الشرع کسی وقت بھی منع نہیں ہے' جب بھی بھوک کی شدت ہو تو کھانا تناول کر لیں' بلکہ بعض دفعہ تو بھوک لگنے کی صورت میں کھانا کھانا واجب ہے، جس کی صراحت کتب فقیہہ میں موجود ہے-" لیکن ہاں ایک بات جو کہ عوام میں بہت مشہور ہے کہ بعد عصر کھانا نہیں کھانا چاہئے، اور خاص کر بعض دیہاتوں میں عورتیں اس پر بات پر سختی سے عمل کرتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کھانا نہیں دیتی ہیں-" جبکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے، جیساکہ سنی بہشتی زیور میں ہے کہ عصر کے بعد کھانے پینے سے بہت سے مرد اور عورتیں پرہیز کرتی ہیں، یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں- البتہ صوفیاء کا طریقہ رہا کہ ان کے نزدیک رات طالبان حق کی عید ہے' اور عید سے پہلے روزہ ہوتا ہے' تو عصر اور مغرب کے مابین کو وہ روزہ کی طرح گزارتے ہیں، اور شب بیداری میں مصروف رہتے ہیں, اگر یہی نیت رکھی جائے کہ بزرگوں کا اتباع مقصود ہے, تو کوئی حرج نہیں-"[ماخوذ؛ سنی بہشتی زیور حصه پنجم صفحه 577 فرید بک سٹال اردو بازار لاہور,]

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ العبد ناچیز فقیر محمد عمران رضا ساغر دہلوی 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے