کیا قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھا سکتے ہیں


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ایک سوال عرض ہے کہ کیا قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھا سکتے ہیں رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی  

سائل ابوبکر (مہاراشٹر)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوہاب 

بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ فقراء کے لئے اور ایک حصہ دوست و احباب کے لئے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لئے ایک تہائی سے کم صدقہ نہ کرے اور کل کو صدقہ کردینا بھی جائز ہے اور کل گھر ہی رکھ لے یہ بھی جائز ہے تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں کے کھانے کے لئے رکھ لینا بھی جائز ہے اور بعض حدیثوں میں جو اسکی ممانعت آئی ہے وہ منسوخ ہے اگر اس شخص کے اہل و عیال بہت ہوں اور صاحب وسعت نہیں ہے تو بہتر یہ ہیکہ سارا گوشت اپنے بال بچوں ہی کے لئے رکھ چھوڑے " اھ(بہار شریعت ح:15/ص:345/ قربانی کے جانور کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی) اور فتاوی ھندیہ میں ہے والافضل ان یتصدق بالثلث و یتخذ الثلث ضیافۃ لاقاربہ و اصدقائہ و یدخر الثلث و یطعم الغنی والفقیر جمیعا کذا فی البدائع ولو تصدق بالکل جاز ولو حبس الکل لنفسہ جاز و لہ أن یدخر الکل لنفسہ فوق ثلاثۃ ایام الا أن اطعامھا والتصدق بھا افضل الا ان یکون الرجل ذا عیال و غیر موسع الحال فان الافضل لہ حینئذ ان یدعہ لعیالہ و یوسع علیھم بہ کذا فی البدائع " اھ (ج:1/ص:300/ الباب الخامس فی بیان محل اقامۃ الواجب / بیروت)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 12---جولائی---2020---بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے