سلام کے بعد دائیں جانب منہ کرکے بیٹھنا مستحب یے یا بائیں جانب

السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ

سلام کے بعد دائیں جانب منہ کرکے بیٹھنا مستحب یے یا بائیں جانب راہنمائی فرمادیجئے اگر دونوں مستحب یے تو دونوں میں بہتر کونسا یے؟؟

سائل؛- حافظ نسیم عالم غازی پور الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب___________↓↓

امام صاحب کا سلام پھیرنے کے بعد جنوب کی طرف منہ کرکے دعا مانگنا جائز ہے" کیونکہ نماز کے بعد انحراف چاہیے خواہ جنوباً کرے، یا شمالاً اور اگر جنوباً یا شمالاً انحراف کا موقع نہ ہو تو قبلہ کو پشت کرے، اور نمازیوں کی طرف منھ-" لیکن اس کے لئے یہ یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی سامنے نماز میں نہ ہو، اگرچہ وہ کسی پچھلی صف میں نماز پڑھتا ہو-"البتہ داہنی طرف پھرنا اولی ہے' کہ ہر بات میں تیامن مستحب ہے"غنـیّــۃ شــرح منـیــہ میں ہے کہ ("اذا تمت صلوۃ الامام فھو مخیر ان شاء انحرف عن یسارہ جعل القبلۃ عن یمینہٖ وان شاء انحرف عن یمینہٖ وجعل القبلۃ عن یسارہ وھذا اولی،،، وان ساء استقبل الناس بوجھہ وھذا اذا لم یکن بحذائہ مصل حتی لوکان بحذائہ مصل لا یستقبلھم بل ینحرف یمنہ او یسرۃ سواء وکان ذالک المصلی فی الصف الاول قریباً من الامام او فی الصف الاخر بعیدا عنہ اذا لم یکن بینھما حاثل- اھ" ملحضا") یعنی جب امام کی نماز پوری ہوگئی تو اسے اختیار ہے، چاہے بائیں طرف پھر جاۓ, اور قبلہ داہنی طرف ہوجائے۔ یا داہنے طرف پھر جاۓ، اور قبلہ بائیں طرف ہوجائے. اور یہ افضل ہے_ اور اگر چاہے نمازیوں کی طرف منہ کرے، اور یہ اس صورت میں ہے'جبکہ امام کے سامنے کوئی نمازی نہ ہو، اگر سامنے کوئی نماز میں ہے٠ تو نمازیوں کی طرف منہ نہ کرے،"بلکہ دائیں یا بائیں گھوم جاۓ، چاہے وہ نمازی پہلی صف میں امام سے قریب ہو، یا آخری صف میں امام سے دور ہو• جبکہ ان دونوں کے درمیان کوئی حائل نہ ہو- اھ"(("غنیّۃ شرح منیہ باب صفۃ الصلاۃ صفحہ نمبر ٣٤٠ تا ٣٤١")) اور ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ نمبر ٦٦ اور بہار شریعت حصہ سوم صفحہ نمبر ٧٤ میں ہے -"[ماخوذ؛ فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ نمبر 114 کتاب الصلاۃ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی]

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ العبد فقیر محمد عمران رضا ساغر دہلوی 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے