7.18.2020

جس نے کفریات جملے استعمال کئے اسکے بچے کی نماز جنازہ پڑھانا کیسا ہے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ 

علماء کرام کی با رگا ہ میرا ایک عریضہ ہے ایک نابالغ بچہ جو انتقال کر گیا اور اسکے والد نے کفریہ کلمات استعمال کیا کفریہ کلمات یہ کہ میں قرآن وحدیث کو نہیں مانتا نہیں جانتا یہ جانتے ہوئے اگر کوئی عالم اس بچہ کی نماز جنازہ پڑھا دے تو اس پر شریعت کا کیا حکم ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے بحوالہ تحریر فرمائیں مہربانی ہوگی 

سائل محمد فرقان رضا رضوی الھند 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

بچے کے والد کا یہ کہنا کہ میں قرآن و حدیث کو نہیں مانتا یہ بلاشبہ کفر ہے اور اس پر توبہ تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے (درمختار مع شامی جلد سوم صفحہ ٣١٠) پر ہے من ھزل بلفظ کفر ارتد و ان لم یعتقد للاستخفاف اور (ردالمحتار جلد سوم صفحہ ٢٩٣) پر بحر الرائق سے ہے الحاصل ان من تکلم بکلمۃ الکفر ھازلا او لاعبا کفر عند الکل ولا اعتبار باعتقادہ کما صرح بہ الخانیہ (ماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٤٦) صورت مسئولہ میں بچے کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے اس لیۓ کہ کفر اس کے والد نے کیا نہ کہ بچے نے تو حکم اس کے والد پر لگے گا نہ کہ بچے پر اور اگر کوئی عالم دین بچے کی نماز جنازہ پڑھا دے تو اس پر کوئی حرج نہیں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد محمد عمران القادری التنویری غفرلہ ٢٢ ذی القعدہ ١٤٤١  ١٤ جولائی ٢٠٢٠

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only