حاملہ عورت کو طلاق دینا کیسا ہے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت اگر حمل سےھے اور ۳ مھینہ کا حمل ہو تو شوھر اگر طلاق دے تو کیا جائز ھے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

سائل محمد آفتاب رضوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

حالت حمل میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے عوام الناس میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عورت حمل سے ہو اور اس حالت میں شوہر طلاق دے دے تو طلاق واقع نہیں ہوتی یہ ان کی غلط فہمی ہے سیدی سرکار اعلی حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں حالت حمل میں بھی طلاق جائز و حلا ل ہے (فتاویٰ رضویہ ج٥ ص٦٢٥) غلط فہمیاں اور ان کی اصلاصفحہ٦٠ ) 

واللہ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ عبید اللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے