پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے

الســـلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان عظام ذیل کے مسئلے کے بارے میں کہ۔ پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ 

سائل۔۔۔ حافظ ایاز رضا مقام گنارہ قصبہ جلال آباد ضلع شاہجہاں پور اتر پردیش۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ 

الجواب بعون الملک الوہاب:-

پرفیوم میں اگر الکحل کی آمیزش نہیں تو وہ پاک ہے اسے استعمال کرنا جائز ہے اور ایسا پرفیوم لگاکر نماز پڑھنی درست ہے لیکن اگر اس میں الکحل کی آمیزش ہے تو اسے استعمال کرنا حرام ہے( فتاوی بحر العلوم اول ص١۴٣)کیونکہ الکحل نجس ہےاسکی نجاست غلیظہ ہےمثل شراب کے اور نجاست غلیظہ کا حکم یہ ہےکہ اگر کپڑے یابدن میں ایک درہم سے زیادہ لگ جائے تواس کا پاک کرنا فرض ہے کہ بے پاک کئے نماز پڑھی تو نماز ہوگی ہی نہیں اور اگر ایک درہم کے برابر لگی ہے تو اسکا پاک کرنا واجب بنا پاک کئے نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی اور اگر ایک درہم سے کم لگی ہے توپاک کرنا سنت کہ بنا پاک کئے نماز پڑھی تو نماز ہوگئ مگر خلاف سنت ایسی نماز کا اعادہ بہتر ہے ایساہی بہار شریعت حصہ دوم ص٣٨٩ پر ہے

واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی دھانگڑھا ،کشنگنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے