عصر اور ظہر کی پہلی رکعت میں ثناء کب تک پڑھ سکتے ہیں


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عصر اور ظہر کی پہلی رکعت میں ثناء کب تک پڑھ سکتے ہیں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی
محمد نور عالم رضوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

عصر اور ظہر کی پہلی رکعت میں مقتدی امام کے رکوع میں جانے تک ثناء پڑھ سکتا ہے-جیسا کہ فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے سری نماز (ظہر اور عصر) میں اگرچہ امام نے قرات شروع کردی ہو پھر بھی مقتدی ثناء پڑھ لے ردالمختار میں ہے اختارہ قاضی خان حیث قال ولو ادرک الامام بعد مااشتغل بالقراءۃ قال ابن الفضل لا یثنی وقال غیرہ یثنیٰ وینبغی التفصیل- ان کان الامام یجھر لایثنی وان کان یسر یثنی وھو مختار شیخ الاسلام خواھر زادہ (رد المختار جلد دوم صفحہ ۱۹۰ ) اور اگر رکوع میں جانے کے بعد شامل ہوتو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہوجائے پھر ثناپڑھ کر قرأت کرے.

وھو سبحانہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ: غلام محمد صدیقی فیضی متعلم (درجہ تحقیق سال دوم) دارالعلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی الہند ۲١/ ذی الحجۃ الحرام ۱۴۴۱ ہجری بروز دوشنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. قاعدہ اخیرہ میں کوئی غلطی ہوئی،پھر سجدہ سہو کیا ،اس کے بعد پھر غلطی ہوئی تو کیا یا پہلے ہی سجدے سہو سے نماز ہو جائے گی یا پھر دوبارہ سجدہ سہ
    کرنا پڑے گا
    تو پھر کیا کریں گے

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ