اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

جان مال کا صدقہ مسجد میں لگانا کیسا ہے


السلام علیکم ورحمۃاللہ برکاتہ 

کیا فرما تے علمائے دین اور مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کیا مسجد صدقہ نفل کے یا جان و مال کے صدقہ کے پیسا مسجد میں لگا سکتے ہیں از روئے شرع جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی  

سائل رحمت حسین چندرپور مہاراشٹر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعليكم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ  کی رقم مسجد میں دینا اور اسے مسجد  میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے ، البتہ نفلی صدقات مسجد میں دینا اور ان کی رقم استعمال کرنا جائز ہے کوئی حرج نہیں ہے فتاوی عالمگیری میں  ہے' لا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار، والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين'' (الفتاوی الہندیہ 1/ 188،  کتاب الزکاة، الباب السابع فی المصارف،) یاد رہے کہ صَدَقے کی کئی  اَقسام ہیں فرض صَدَقہ جیسا کہ  زکوۃ، واجِب صَدقہ جیسا کہ  فطرہ  اور دِیگر صَدقاتِ واجبہ ۔  نفلی صَدَقہ جیسے کسی غریب قوم میں ثواب کی نیت سے رَقم  دینا جسے  اُردو میں خیرات کہا جاتا ہے یہ بھی صَدَقہ  ہی ہے اس کے علاوہ صَدَقے کی بعض صورتیں اور بھی  ہیں جیسا کہ جان کا صَدَقہ دینا وغیرہ ۔ اگر جان کا صَدَقہ دینا ہو تو فتاویٰ رضویہ شریف  میں ہے کہ جان کے بدلے یوں جان کا صَدَقہ دیا جائے کہ حَلال جانور ذَبح  کر کے دے دیا جائے  (فتاوی رضویہ ، ۲۴ / ۱۸۶ ماخوذاً )

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب 

کتبہ مفتی الفاظ قریشی نظمی صاحب قبلہ کرناٹک

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست