کیا ایسی کوئی صورت ہے جس میں تعزیہ بنانا جائز ہو

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته 

وعلمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال عرض خدمت ہے 
سب سے پہلے تعزیہ کس نے بنا ئی اور کیا کوئی ایسی صورت ہے جس میں تعزیہ بنانا شرعا جائز ہو وقت مناسب جواب عنایت فرما کر رہنما ئی فرمائیں 

السائل دلشاد احمد سدھارتھ نگر یو پی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب:-

سب سے پہلے تعزیہ سلطان تیمور نے بنایا مگر اسوقت مروجہ تعزیہ داری کی سی خرافات نہ تھی بلکہ اس نے اپنی تسکین شوق کے لئے روضہ مبارک امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی صحیح نقل کی تھی جیساکہ گنبد خضری کا نقشہ بناتے ہیں اور اس میں کوئ حرج بھی نہیں جیسا کہ مجدداعظم سیدنا اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ رقم طراز ہیں"تعزیہ جس طرح رائج ہے ضرور بدعت شنیعہ ہے ،جس قدر بات سلطان تیمور نے کی کہ روضہ مبارک حضرت امام رضی اللہ عنہ کی صحیح نقل تسکین شوق کو رکھی وہ ایسی تھی جیسے روضہ منورہ وکعبہ معظمہ کے نقشے اس وقت تک اس قدر میں حرج نہ تھا "(فتاوی رضویہ ج٢۴ ص ۵٠۴) اب رہی بات شرعی تعزیہ سازی کی تو اس سلسلہ میں حضور مجدد اعظم رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں"صرف کاغذ کے صحیح نقشے پر قناعت کرے اور اسے بقصد تبرک بے آمیزش منہیات اپنے پاس رکھے جس طرح حرمین محترمین سے کعبہ معظمہ اور روضہ عالیہ کے نقشے آتے ہیں یا دلائل الخیرات شریف میں قبور پر نور کے نقشے لکھے ہیں"(اعالی الافادہ فی تعزیة الہند وبیان شہادہ ص٣) اس تحریر مبارک سے معلوم ہوا کہ کہ تعزیہ داری نہیں کرنی ہے بلکہ روضہ سیدنا امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہ کا صحیح نقشہ بطور تبرک رکھے مگر منہیات سے بالکل دور رہے کہ منہیات کی آمیزش حرام وگناہ ہے

 واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی کشنگنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے