موبائل فون سے طلاق کا شرعی حکم ؟؟؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسلہ ذیل میں؟ کہ زید نے اپنی بیوی کو فون میں تین طلاق دی لیکن اس کی بیوی نے نھیں سنی کیونکہ فون کو الگ رکھ دیا تھا تو کیا طلاق واقع ہو گیا جبکہ زید کے پاس کوئی گواہ بھی نہیں ہے کہ اس نے تین طلاق دی ہے 

سائل محمد عمران رضا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملك الوهاب 

فون پر بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے بشرطیکہ شوہر خود اس کا اقرار کرتا ہوں یا اس کی شرعی گواہی موجود ہو لہٰذا صورت مسؤلہ میں فون پر کہی گئی باتیں اگر سچ ہے اور شوہر اس کا اقرار کر رہا ہے یا اس طلاق کی شرعی شہادت اور گواہی ہے تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئں اور بیوی شوہر کے نکاح سے اس طرح نکل گئی کہ اب بغیر حلالہ ان دونوں کے درمیان نکاح درست نہیں قال اللہ تبارک وتعالی فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( ماخوذ از فتاوی رضا دارالیتامیٰ، صفحہ 243/244 ) اور جیسا کہ موبائل فون کے ضروری مسائل پے ہے کہ شوہر کے طلاق دینے سے طلاق ہو جاۓ گی چاہے خط و کتابت کے ذریعہ طلاق دی جاۓ یا موباٸل میسیج اور موباٸل کال کے ذریعہ بہر صورت طلاق ہو جاۓ گی ہاں جس طرح خط کے ذریعہ طلاق دینے میں شوہر کا اقرار یا دو گواہوں کی شہادت ضروری ہے اسی طرح بذریعہ موباٸل طلاق دینے میں بھی شوہر کا اقرر یا دو گواہوں کی شہادت ضروری ہے کیونکہ ایک خط دوسرے خط کے اور ایک شخص کی آواز دوسرے شخص کی آواز کے مشابہ ہوتی ہے اس لئے موباٸل پر طلاق کی صحت کے لئے شوہر کا اقرار یا دو گواہوں کی شہادت ضروری ہے ( موباٸل کے ضروری مساٸل صفحہ 130 )

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب 


کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے