قربانی کی کھالیں اسکول کی مُروَّجہ تعلیم کیلئے دے سکتے ہیں یا نہیں

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا قربانی کی کھالیں اسکول کی مُروَّجہ تعلیم کیلئے دے سکتے ہیں یا نہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی آپ

سائل محمد شاکر رضوی جہاں آباد یو پی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

الجواب بعون الملک الوہاب

قربانی کی کھال مدرسے وغیرہ میں دیا جا سکتا ہے اور اپنے استعمال میں بھی لایا جا سکتا ہے اور کھال بیچ کر کے اسکی قیمت بھی مدرسے وغیرہ میں دی جا سکتی ہے اور جیسا کہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امام اہلسنت مجدد دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ مصرف قربانی میں تین باتیں حدیث میں ارشادہوئی ہیں (01)کھاؤ اور(02) ذخیرہ رکھو اور (03) ثواب کا کام کرو ( ابوداؤد شریف جلد 03 صفحہ نمبر 132حدیث 2813) انگریزی پڑھنا بیشک کوئی بات ثواب کی نہیں اگر یہ ا حتیاط ہو سکے کہ اُس کے دام صرف قران مجید و علمِ دین کی تعلیم میں صرف کئے جائیں تو دے سکتے ہیں ورنہ نہیں (بحوالہ فتا وٰی رضویہ جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 506)

واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ العبد ناچیز خاکسار محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے