شوہر کے انتقال پر چوڑیاں توڑنا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ جب کسی عورت کا شوہر انتقال کر جاتا ہے تو اس عورت کی چوڑیوں کو ہاتھ ہی میں توڑ دیا جاتا ہے تو اس طرح کرنا عند الشرع کیسا ہے

سائل حافظ محمد نسیم احمد نواب گنج
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

شوہر کے انتقال کے بعدعورت کے لئے حکم شرع یہ ہے کہ چار ماہ دس دن عدت گزارے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے  ( وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ) ترجمہ تم میں جو لوگ وفات پائیں اور بیبیاں چھوڑ کر جائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے ( پارہ 2 سورۃ البقرہ آیت 234 ) حضور سیدی سرکاراعلی حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں شوہر کے انتقال کے بعد مندرجہ ذیل چیزیں سوگ والی عورتوں کے لئے منع ہیں ہر قسم کا گہنا یہاں تک کہ انگوٹھی چھلا بھی، منہدی ، سرمہ ، عطر ، ریشمی کپڑا، ہار پھول بدن یا کپڑے میں کسی قسم کی خوشبو، سر میں کنگھی کرنا ، اور مجبوری ہو تو موٹے دندانوں کی کنگھی کرے جس سے فقط بال سلجھا لے ، پھلیل ، میٹھا تیل ، کسم ، کیسر کے رنگے کپڑے ، یونہی ہر رنگ جس سے زینت ہوتی ہو اگرچہ اگرچہ پڑیا گیرو کا ، چوڑیاں اگرچہ کانچ کی ، غرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تک منع ہے - چارپائی پر سونا بچھونا سونے یا بیٹھنے میں بچھانا منع نہیں-"( فتاویٰ رضویہ شریف جلد 13صفحہ 331 / رضا فاؤنڈیشن لاہور) مگر یہ کہ چوڑیاں کلائی میں ہی ٹوڑ دیا جاتا ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایک تو ضائع کرنا ہے اور دوسرے توڑتے ہوئے ضرر پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے ، اس لئے فی الحال کلائی سے اتار لیں اور بعد عدت پہنا دیں-

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۱۳/ ذی الحجہ ۱۴۴۱ہجری ۴/ اگست ۲۰۲۰عیسوی  بروز منگل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے