حلال جانوروں کا گردہ کھانا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حلال جانوروں کے گردے کھا سکتے ہیں یا نہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

سائل محمد فیضان رضا قادری پتہ حبیب پور الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم الســلام ورحمتہ اللہ تعـالیٰ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

گردے کھانا جائز ہےجیسا کہ مفتی تطہیر احمد صاحب اپنی کتاب میں بحوالہ الملفوظ فرماتے ہیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ گردے کھانا جائز ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہ فرمایا اس وجہ سے کہ پیشاب اس میں ہوکر مثانے میں جاتا ہے ( الملفوظ صفحہ نمبر 341 ) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حلال جانور کے گردے کھائے جا سکتے ہیں کھانا حرام نہیں لیکن گردے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند تھے اس نہ کھانا بہتر ہے( غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح صفحہ نمبر 193/194 ) 

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ محمدالطاف حسین قادری عفی عنہ خادم التدریس دارالعلوم غوث الوری ڈانگالکھیم پورکھیری یوپی موبائیل/9454675382

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے