كيا فون كے ذريعے طلاق دينے سے طلاق واقع ہو جاتى هے؟


اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر نے بیوی کو فون پر طلاق دیا تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی 

سائل محمد فیضان رضا قادری پتہ حبیب پور الھند 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملك الوهاب 

فون پر بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے بشرطیکہ شوہر خود اس کا اقرار کرتا ہوں یا اس کی شرعی گواہی موجود ہو لہٰذا صورت مسؤلہ میں فون پر کہی گئی باتیں اگر سچ ہے اور شوہر اس کا اقرار کر رہا ہے یا اس طلاق کی شرعی شہادت اور گواہی ہے تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو گئں اور بیوی شوہر کے نکاح سے اس طرح نکل گئی کہ اب بغیر حلالہ ان دونوں کے درمیان نکاح درست نہیں قال اللہ تبارک وتعالی فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( ماخوذ از فتاوی رضا دارالیتامیٰ، صفحہ 243/244)

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب 

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے