بغیر استنجاء لئے نماز پڑھا دی تو کیا حکم ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ایک سوال عرض ہے کہ زید نے پیشاب کرنے کے بعد نہ پانی کا استعمال کیا اور نہ ہی ڈھیلے کا اور فوراً آنے کے بعد عشاء کی نماز پڑھائی تو آیا اس صورت میں نماز ہوگی یا نہیں ؟؟؟جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل ابوبکر مہاراشٹر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوہاب:-

استنجاء کے بعد مخرج کو پاک کرناسنت موکدہ ہے چنانچہ مراقی الفلاح میں ہے "وصفة(الاستنجاء)لیس الا قسما واحداوھوسنة موکدةللرجال والنساءلمواظبةالنبی صلی اللہ علیہ وسلم ولم یکن واجبا لترکہ علیہ الصلوة والسلام لہ فی بعض الاوقات"(صفحہ نمبر ١٨) خواہ پانی سے ہو یا ڈھیلے وغیرہ سے جبکہ نجاست ایک درہم سے متجاوز نہ ہو اور اگر نجاست ایک درہم سے متجاوز ہے تو پانی سے پاک کرنا فرض ہے عالمگیری میں ہے"انما الشرط ہو الانقاء حتی لو حصل بحجر واحد یصیر مقیما للسنة"پھر چند سطر بعد ہے"ثم الاستنجاء بالاحجار انما یحوز اذا اقتصرت النجاسة علی موضع الحدث فاما اذا تعدت موضعہا بان جاوزت الشرج اجمعوا علی ان ما جاوز موضع الشرج من النجاسة اذا کان اکثر من قدر الدرہم یفترض غسلہا بالماء ولا یکفیہا الازالة بالاحجار(جلد ١ صفحہ نمبر ۴٨)پیشاب نجاست غلیظہ ہےچنانچہ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں"انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے جس سے وضو یا غسل واجب ہو جیسے پاخانہ پیشاب وغیرہ(بہار شریعت اول ص ٣٩٠)اور نجاست غلیظہ کے بارے تحریر فرماتے ہیں "اور نجاست غلیظہ کا حکم یہ ہیکہ اگر بدن یا کپڑے میں ایک درہم سے زیادہ لگ جائے تو اسکا پاک کرنا فرض ہے بے پاک کئے نماز پڑھ لی تو نماز ہوگی ہی نہیں اور قصدا پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بنیت استخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے بے پاک کئے نماز پڑھی تو مکروہ تحریمی ہوئ یعنی ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے اور قصدا پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے کہ بنا پاک کئے نماز ہوگئ مگر خلاف سنت ہوئ ایسی نماز کا اعادہ بہتر ہے"(ایضا ص٣٨٩) لہذا صورت مسولہ میں اگر نجاست بدن یا کپڑے پر نہ لگی ہو تو نماز ہوجائےگی جبکہ اور دوسرامانع نہ ہو اور اگرنجاست کپڑا یا بدن لگی ہے مگر ایک درہم سے کم لگی تو اس صورت میں بھی نماز ہوجائےگی مگر خلاف سنت ہوگی اور اس سبب گنہگار بھی ہوگا ایسی نماز کااعادہ بہتر ہےاوراگر نجاست ایک درہم کے برابر لگی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی اور ایک درہم سےزیادہ ہے تواصلا نماز ہی نہ ہوگی 

واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ محمد مزمل حسین نوری مصباحی کشنگنج بہار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے