حضرت خضر علیہ السلام کی عمر دراز کیسے ہوئی؟

السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کی حضرت خضر علیہ السلام کی عمر کتتے برس کی تھی اور انکی عمر دراز کیسے ہوئی؟ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل غلام تاج الشریعہ فقیر محمد شہریار رضا قادری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب

حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنہ ولادت معلوم نہیں نا میری نظر سے سے سنہ ولادت کی کوئی روایت گزری ہاں جمہور علماء و صالحین کے نزدیک ابھی وہ زندہ ہیں جیساکہ تفسیر خازن میں ہے اکثر علماء کا مَوقف یہ ہے ،نیز مشائخ صوفیہ اور اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زندہ ہیں شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاویٰ میں فرمایا کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جمہور علماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ہیہ بھی منقول ہے کہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا و اللہ تعالٰی اعلم ( خازن الکہف تحت الآیۃ : 82 3 / 222 ) اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں چار نبی زندہ ہیں کہ اُن کو وعدۂ الٰہیہ ابھی آیا ہی نہیں یوں تو ہر نبی زندہ ہے اِنَّ اللہ حرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اللہ حَیٌّ یُّرْزَقُ بے شک اللہ نے حرام کیا ہے زمین پر کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسموں کوخراب کرے تو اللہ کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں ( ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلی اللہ علیہ وسلم  2 / 291 الحدیث: ۱۶۳۷ ) اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایک آن کو محض تصدیقِ وعدئہ الٰہیہ کے لیے موت طاری ہوتی ہے بعد اِس کے پھر اُن کو حیاتِ حقیقی حِسّی دُنْیَوی عطا ہوتی ہے خیر اِن چاروں میں سے دو آسمان پر ہیں اور دو زمین پر خضر و الیاس عَلَیْہِمَا السَّلَام زمین پر ہیں اور ادریس و عیسیٰ عَلَیْہِمَا السَّلَام آسمان پر ( ملفوظات حصہ چہارم ص 484 ) {مکتبۃ المدینہ کراچی }(ایسا ہی تفسیر صراط الجنان سورہ کہف تحت آیۃ 81/82 پر ہے)

واللہ تعالیٰ اعلم باالصوب 

کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۱۸/ محرم الحرام ١٤٤٢ہجری ۷/ ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروز سوموار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے