ظہر کی نماز قضا ہو جائے تو کس وقت میں پڑھی جائے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایک سوال ہے کہ اگر ظہر کی نماز قضا ہو جائے تو کس وقت میں پڑھی جاۓ اور کون سا وقت بہتر ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہو گی

 سائل محمد یونس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

قضاء نماز ادا کرنے کے لئے کوئی وقت متعین نہیں ہے اوقات مکروہ کے علاوہ جب چاہے پڑھ سکتا ہے جیسا کہ حضور صدر الشریعۃ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں کہ قضاء نماز کے لیے کوئی وقت معین نہیں عمر میں جب پڑھے گا بری الذمۃ ہو جائے گا مگر طلوع و غروب اور زوال کے وقت ان وقتوں میں نماز جائز نہیں( بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ 43 مطبوعہ قادری کتاب گھر ) لھذا جس وقت کی قضاء ہوئ ہو اس کو جتنی جلدی ہوسکے ادا کر لے

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد محمد عمران القادری التنویری غفرلہ 17محرم الحرام 1442 / 06 ستمبر 2020
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0