جس گھر میں میّت ہو جائے اس گھر میں کھانا کب تک نہیں بنا سکتے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس گھر میں جنازہ ہو اس گھر میں کھانا کب تک نہیں بنا سکتے ؟  برائے   مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

حافظ میر محمد نقشبندی ممبر آف گروپ یارسول اللہﷺ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

جس وقت میت گھر میں رہتی ہے اس وقت کھانا بنانے کو لوگ معیوب جانتے ہیں مگر بہتر یہ ہے کہ ایک دن اعزہ اور پڑوس کے لوگ میت کے گھر کھانا پہونچائیں، اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو خود ہی کھانا بنائیں کھانا بنانے کی ممانعت شرعا نہیں ہے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں اسی طرح کا سوال ہوا کہ میت کے یہاں روٹی پکانا منع ہے؟ تو اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: موت کے سبب وہ لوگ پکاتے نہیں ہیں پکانا کوئی شرعا منع نہیں ہے یہ سنت ہے کہ پہلے دن صرف گھر والوں کے لئے کھانا بھیجا جائے اور انہیں باصرار کھلایا جائے  ( فتاویٰ رضویہ جلد ۹ صفحہ ۹۰ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہود) رد المختار میں ہے وباتخاذ طعام لھم قال فی الفتح: ویستحب لجیران أھل المیت والأقرباء الأباعد تھیئۃ طعام لھم یشبعھم یومھم ولیلتھ ولأنہ بر ومعروف ویلح علیھم فی الأکل لأن الحزن یمنعھم من ذلک فیضعفون (ردالمحتار / ج ۳ / ص:۱۴۸)

واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ: غلام محمد صدیقی فیضی متعلم (درجہ تحقیق سال دوم) دارالعلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف سدھارتھ نگر یوپی الہند ۵/ستمبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز سنیچر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے