مدرسے کی زمین پر مسجد یا مسجد کی زمین پر مدرسہ بنانا کیسا ہے

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

علماٸے کرام سے ایک سوال عرض یہ ھے کہ ایک زمین ھے اس نیت سے خریدے ھیں کہ اس جگہ مسجد بناٸیں گے اور مدرسے کی بھی زمین ھے تو اب ارادہ یہ ھے کہ مدرسے کی زمین پر مسجد بنا دی جاے اور مسجد کی زمین پر مدرسہ بنا دیا جاے تو از ورے شرع ایسا کرنا کیسا ھے نوٹ ۔۔۔۔ابھی لوگوں میں یہ اعلان نہیں ھوا ھے کہ اس جگہ پر مسجد بنے گی صرف ارادہ ھے جواب عنایت فرماکر شکریہ کو موقع عنایت فرماٸیں 


طالب دعا اعجاز احمد علیمی ممبر آف گروپ یارسول اللہﷺ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب

مسجدکی جگہ پر مدرسہ بنانایامدرسےکی جگہ پر مسجد بنانا جائز نہیں ہے جوجگہ جس کیلئے خریدی گئی ہےوہی چیز اس میں بنائی جائئے دوسری چیز بنانا جائز نہیں اسی طرح کےسوال کےجواب میں فتاوی فقیہ ملت میں ہیں کہ جب مدرسہ کےنام پر زمین خریدی گئی اوراس کےاکثرحصہ پرمدرسہ کی تعمیربھی ہوگئی تواراکین مدرسہ اس کےکسی گوشہ میں مسجدتعمیرنہیں کر سکتے کہ وہ زمین مدرسہ کیلئے وقف ہوگئی خواہ وہ زمین کسی نےوقف کی ہویاچندہ کی رقم سے مدرسہ کیلئے زمین خریدی گئی ہو البتہ اس میں کوئی کمرہ بنا کر اسے نماز کیلئے خاص کرسکتےہیں مگروہ جگہ مسجدکےحکم میں نہیں ہوگی اورتغییر وقف جائزنہیں یعنی مدرسہ کی زمین کو مسجد بنا نا یا مسجد کی زمین کومدرسہ بناناجائزنہیں فتاوی عالمگیری میں ہے لایجوز تغییر الوقف ( جلددوم صفحہ 490 ) اورحضرت علامہ ابن عابدین شامی قدس سرہ السامی تحریرفرماتےہیں الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ( ردالمختارجلدسوم صفحہ 427 ) ( ماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلددوم کتاب الوقف صفحہ 130 مکتبہ فقیہ ملت دہلی ) کتب فتاوی سےمعلوم ہوا کہ مدرسہ کی جگہ پر مسجد بنا نا یا مسجد کی جگہ پرمدرسہ بناناجائزنہیں 

واللہ تعالیٰ اللہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے