مجبوری میں سود لینا کیسا ہے


اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارےمیں کہ زید حاجت مند ہے کوئی اسے قرض بھی نہیں دیتاہے توضرورت کے تحت سودلے توکیااسے دینے والے کی طرح گناہ برابر ہوگا؟ نیزایسی صورت میں کوئی ایساطریقہ ہے جس سے سودکے گناہ سے بچ جائے اورکام بھی ہوجائے؟بحوالہ جواب عنایت فرمائیں 

المستفتی ابوضیاغلام رسول سعدی کٹیہاری (مقیم بلگام کرناٹک انڈیا)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ الله وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

صحیح شرعی مجبوری کے تحت لے سکتا ہے یعنی ایسی مجبوری ہے بغیر اس کے کوئی چارہ نہیں تو سود کے گناہ سے بچ جائے گا بصورت دیگر سخت گنہگار ہوگا حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں فقہائے کرام نے سود سے بچنے کی جوصورتیں بیان کی ہیں جن میں سے بعض کا ذکر بہارشریعت کے گیارہویں حصے میں ہے اگر اس طرح بھی قرض نہ ملے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے الاشباہ والنظائر ٢٩؃ میں ہے فی القنیہ والبغیۃ یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں سود دینے والا اگر حقیقتاً صحیح مجبوری کے تحت دیتا ہے تو اس پر الزام نہیں در مختار میں ہے یجوز لمحتاج الاستقراض بالربح اور اگر بلا مجبوری شرعی سود دیتا ہے مثلاً تجارت بڑھانے یا جائداد میں اضافہ کرنے یا اونچا محل بنانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وہ بھی سود کھانے والے کے مثل ہے ( فتاویٰ رضویہ جلد سوم ٣٤٢ ) بحوالہ فتاویٰ فیض الرسول جلددوم صفحہ 389){مطبوعہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور } مذکورہ بالا حوالاجات سے معلوم ہوا صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے بلا صحیح شرعی مجبوری کے سودی قرض لینا جائز نہیں


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۲۹/ محرم الحرام ١٤٤٢ہجری ۱۸/ ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروزجمعہ مبارکہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے