مالی جرمانہ لینا عند شرع کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں ،مالی جرمانہ لینا عند شرع کیا ہے یا کوئی صورت ہے مالی جرمانہ لینے کی، جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

المستفتی۔ محمد وارث رضا جھارکھنڈ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

مالی جرمانہ لینا ناجائز ہی نہیں بلکہ حرام ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے کہ اور مالی جرمانہ جائز نہیں۔ لانہ شیئ کان ونسخ کمابینہ الامام ابوجعفر الطحاوی رحمہ اللّٰہ تعالٰی (کیونکہ یہ چیز پہلے تھی لیکن بعد میں منسوخ ہوگئی تھی جیسا کہ امام ابوجعفر الطحاوی رحمہ اللہ تعالٰی نے بیان کیا ہےتعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ درمختار میں ہے لاباخذ مال فی المذھب ۱؎ بحر۔مال لینے کا جرمانہ مذہب کی رُو سے جائز نہیں ہے۔ بحر (ت)(۱؎ درمختار باب التعزیر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۲۶)اُسی میں ہے:وفی المجتبٰی انہ کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۲؎۔اور مجتبٰی میں ہے کہ ابتدائے اسلام میں تھا، پھر منسوخ کردیا گیا (ت)ردالمحتار میں بحر سے ہے وافاد فی البزازیۃ، ان معنی التعزیر باخذ المال، علی القول بہ امساک شیئ من مالہ عندہ مدۃ لینزجر ثم یعیدہ الحاکم الیہ لا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ اولبیت المال کمایتوھمہ الظلمۃ اذلایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی۱؂اور بزازیہ میں افادہ کیا ہے کہ مالی تعزیر کا قول اگر اختیار کیا بھی جائے تو اس کا صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ اس کا مال کچھ مدّت کے لئے روک لینا تاکہ وہ باز آجائے اس کے بعد حاکم اس کا مال لوٹادے نہ یہ کہ حاکم اپنے لیے لے لے یا بیت المال کیلئے جیسا کہ ظالم لوگ سمجھتے ہیں کیونکہ شرعی بسبب کے بغیر کسی کا مال لینا مسلمان کے لئے روا نہیں (((حوالہ فتاوی رضویہ جلد ۵ صفحہ نمبر ۱۱۳ دعوت اسلامی)))

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری ۰۷ صفر المظفر ۱۴۴۲ ہجری ۲۶ ستمبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز ہفتہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے