اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

تین بیٹے اور تین بیٹیوں میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں ان کے درمیان ترکہ کیسے تقسیم ہوگا ؟اور ترکہ میں کیا کیا شامل ہے کیا رہئشی مکان بھی تقسیم ہوگا ؟بینوا توجروا

المستفتی محمد فیض احمد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

متوفی زید کا مال متروکہ بعد تجہیز و تکفین اداۓ گی قرضہ اجراء وصیت در ثلث اور لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ سورہ نساء آیت 11 کے قاعدہ بموجب حسب ذیل طریقے سے مال متروکہ تقسیم ہو گا یعنی بیٹے کو دو دو اور بیٹی کو ایک ایک حصہ ملے گامسئلہ نو 9 سے بنے گا بیٹا بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی دو2۔ دو2۔ دو2۔ ایک 1 ایک 1 ایک1 ( ھکذا فتاوی خلیلیہ جلد دوم صفحہ 298 ) ترکہ میں زمین گھر پیسہ سونا چاندی وغیرہ سب ترکہ میں شامل ہیں
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد محمد عمران القادری التنویری غفرلہ 11محرم الحرام 1442/ 31 اگست 2020

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست