کیا صفر کے مہینے میں مصیبتیں آتی ہیں

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

کیا فرماتے علمائے کرام اس مہینے کے بارے کی صفر کے مہینے میں مصیبتوں کے آنے کی اسلاف سے روایت ملتی ہیں کیا یہ سہی ہے 

السائل عبد النبی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ

الــــجواب بعون الملک الوھاب

ایسا کچھ نہیں ہے کہ ماہ صفر منحوس ہے یا اس ماہ میں مصیبتیں آتی ہے یہ سب زمانہ جاہلیت میں مانا جاتا ہے اور لوگ اسے آج بھی حقیقت مانے ہوئے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ ماہ صفر منحوس ہے یہ سب خیالات بے معنیٰ ہے جیسا کہ حدیث پاک میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ وَقَالَ عَفَّانُ ‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ‏‏سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏‏‏‏ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ ‏‏‏‏‏‏وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ ترجمہ اور عفان بن مسلم (امام بخاری (رحمتہ اللہ علیہ ) کے شیخ) نے کہا (ان کو ابونعیم نے وصل کیا) ہے کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا ان سے سعید بن میناء نے بیان کیا کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چھوت لگنا بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے ( حوالہ صحیح بخاری حدیث نمبر 5707) نوٹ اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہے کہ ماہ صفر کو منحوس نہیں کہنا چاہیئے اور نا ہی اسے منحوس جانے

واللہ اعلم باالصواب

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے