کیا جس عورت کا حمل ساقط ہو جائے وہ بھی چالیس دن ناپاک رہیگی


السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کوئی عورت حاملہ ہو اوراس کا حمل 1-2 ماہ بعد گر گیا ہو تو وہ عورت بھی 40 دن تک ناپاک رہیگی یا پھر اسکے لئے دوسرا حکم ہے۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔


غلام سرور آرہ ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہﷺ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

اور اسقاط حمل کے تعلق سے حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ حمل ساقط ہوگیا اور اس کا کوئی عضو بن چکا ہے جیسے ہاتھ پاؤں یا انگلیاں تو یہ خون نفاس ہے ورنہ اگر تین دن تک رہا اور اس سے پہلے پندرہ دن پاک رہنے کا زمانہ گزر چکا ہے تو حیض ہے اور اگر تین دن سے پہلے ہی بند ہوگیا یا ابھی پندرہ دن پورے طہارت کے نہیں گزرے ہیں تو استحاضہ ہے آگے فرماتے ہیں کہ حمل ساقط ہونے سے پہلے کچھ خون آیا کچھ بعد کو تو پہلے والا استحاضہ ہے بعد والا نفاس یہ اس صورت میں ہے جب کوئی عضو بن چکا ہو ورنہ پہلے والا اگر حیض ہوسکتا ہے تو حیض ہے نہیں تو استحاضہ( بہار شریعت جلد اول حصہ دوم صفحہ نمبر/75 نفاس کا بیان ) 

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ محمدالطاف حسین قادری عفی عنہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے