کافر پڑوسی کی مدد کرنا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا پڑوسی ہندو سخت بیمار ہو تو کیا ہم اسکی مدد کر سکتے ہیں برائے مہربانی جواب دیں


سائل محمد وارث علی خان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجوابــــــ بعون الملک الوھاب

سب سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ پڑوسی کی تین قسمیں ہیں جیساکہ آقائے دو جہاں ﷺ نے فرمایا کہ پڑوسی تین قسمیں کے ہیں ہر ایک کے علحیدہ علحیدہ احکام ہیں بعض کے تین حق ہیں بعض کے دو حق ہیں اور بعض کا ایک حق ہے(1)جو پڑوسی مسلم ہو اور رشتہ والا ہو اس کے تین حق ہیں،،حق ہمسائیگی_ حق اسلامی حق قرابت اور رشتہ دار(2)مسلم پڑوسی کے دو حق ہیں حق جوار {پڑوسی} اور حق اسلام(3)اور کافر پڑوسی کا ایک حق ہے حق جوار {پڑوسی}صحابہ کرام رضوان اللّٰہِ تعالیٰ اجمعین عرض کرتے ہیں یا رسول اللّٰہ ان کو اپنی قربانیوں میں سے دیں فرمایامشرکین کو قربانیوں میں سے کچھ نہ دو اب کافر پڑوسی کا جو ایک حق ہے یعنی انسانی حقوق بعض ایسے بھی حقوق ہیں جو ہر آدمی کے دوسرے آدمی پر ہیں خواہ وہ کافر ہو یا مسلمان نیکوکار ہو یا بدکار ان حقوق میں سے چند حقوق یہ ہیں(1)بلا خطا ہرگز ہرگز کسی انسان کی جان ومال کو نقصان نہ پہنچائے (2) بلا کسی شرعی وجہ کے کسی انسان کے ساتھ بدزبانی وسخت کلامی نہ کریں (3)کسی مصیبت زدہ کو دیکھے یا کسی کو بھوک پیاس یا بیماری میں مبتلا پاۓ تو اس کی مدد کرے، کھانا پانی دے دے- یا دوا علاج کردے اھ(جنتی زیور صفحہ نمبر 100) لہذا پتا چلا کہ جو بھی کافر اصلی ہیں، ان کی مدد کرنا انسانی حقوق میں سے ہے اب رہا سوال یہ کہ جو پکّا وہابی دیوبندی ہے تو کیا اس کا بھی خیال رکھا جائے تو آپ پہلے یہ ذہن نشین کر لیں کہ وہابی دیوبندی بمطابق فتاویٰ حسام الحرمین کافر ومرتد ہیں اور علماء حرمین و طیبین نے ان کے بارے میں بالاتفاق فرمایا کہ ( من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر) اسی وجہ سے ان کی مدد نہیں کی جاۓ گی اس لئے کہ وہ مرتد ہیں اور مرتد کی مدد جائز نہیں

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ الفقیر محمد عمران رضا ساغر دہلوی 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے