قبلہ بدلنے سے پہلے کس جانب منھ کر کے نماز پڑھی جاتی تھی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

عرض یہ ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز کی حالت میں تھے تو اس وقت قبلہ بدل نے کا حکم ہوا  تو اس پہلے کدھر منہ کرکے نماز پڑھ رہے تھےبرائے مہربانی علمائے کرام اس مسئلہ کا جواب عنایت فرمائیں عین نوازش

سائل محمد صنور رضا قادری اتردیناجپور بنگال 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب 

اس وقت قبلہ بیت المقدس تھاعلامہ سیدنعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ تحریرفرماتےہیں بعدہجرت نبی کریم ﷺعلیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منھ کرکےنمازپڑھتےتھےتقریباسترہ مہینےبیت المقدس کی طرف منھ کرکےنمازپڑھی گٸ پھرسرکارﷺکی رضاسےکعبہ قبلہ ہوجیساکہ قرآن شریف میں ہےفلنولینّک قبلةترضٰھافول وجھک شطرالمسجدالحرام توضرورہم تمہیں پھیردیں گےاس قبلہ (کعبہ)کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہےابھی اپنامنھ پھیردومسجدحرام کی طرف اوریادرہےکہ قبل ہجرت قبلہ کعبہ ہی تھا قرآن میں ہے وماجعلناالقبلةالتی کنت علیھا اۓمحبوب تم پہلےجس (کعبہ) قبلہ پرتھےہم نےوہ اسی لیۓمقررکیاتھا( کنزالایمان پارہ ٢ س بقرہ صفحہ٣٣تا٣٤ ) 

واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ عبید اللہ خادم التدریس مدرسہ دارارقم ارقم بریلی شریف الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے