مسلمان کو حرام جانوروں کا گوشت ڈلیوری کرنا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع مسٔلہ ذیل میں کہ ایک شخص بیرن ملک میں ڈلیوری کا کام کرتا ہے جو لوگ آرڈر کرتے ہیں انکے یہاں سامان پہنچا تا ہے تو آرڈر کرنے والے غیر مسلم حرام جانوروں کا گوشت بھی منگواتے ہیں تو کیا حرام گوشت پہنچا سکتے ہیں؟

سائل محمد فردوس عالم جھارکھنڈ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں اجرت پر گوشت پہونچا سکتے ہیں کوئی حرج نہیں کیونکہ حرام جانور کا گوشت یا جو جانور غیر اللہ کے نام پہ ذبح کیا گیا مسلمان کو کھانا حرام ہے اجرت لےکرپہچانانہیں اسی طرح ایک سوال کے جواب میں حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین، امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں زید اجرت پر سنیما حال وغیرہ۔ کی آرائش کرا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں تصویر سازی کا کام شامل نہ ہو اس لئے کہ سنیما دیکھنا گناہ ہے نہ کہ سنیما کی تعمیر و آرائش میں اجرت پر کام کرنا یہاں تک کہ اجرت پر راج گیر کا گرجا یا شوالہ بنانا بھی جائز ہے جیساکہ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے فتاویٰ رضویہ جلد دہم۵۸؃ پر تصریح فرمائی ہے اور فتاویٰ قاضی خان علی الہندیۃ جلد دوم صفحہ نمبر 309 ) میں ہے لوبنی بالاجر بیعۃ او کنیسۃ للیھود والنصاری لھاب لہ الاجر اھ (فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم 419/ اجارہ کا بیان ) 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۲۲/ محرم الحرام ١٤٤٢ہجری ۱۱/ ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروز جمعہ مبارکہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے