کیا فرشتے اللہ تعالی کی نوری مخلوق ہیں

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ فرشتے اللہ تعالی کی نوری مخلوق ہیں لیکن کیا وہ جسم و جسمانیت رکھتے ہیں یا جسم و جسمانیت سے پاک ہیں ؟

محمد کوثر رضا صدیقی اسمٰعیلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب 

جی ہاں فرشتے جسم و جسمانیات سے پاک ہیں کیوں کہ وہ نوری مخلوق ہیں البتہ انسان کی شکل میں آ سکتے ہیں حدیث شریف میں ہے عن عاٸشةرضی اللہ عنھاقالت قال رسول اللہﷺخلقت الملاٸکةمن نور ( صحیح مسلم  صفحہ نمبر ١٥٩٧ ) اور حضور صدر الشریعہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں فرشتے اجسام نوری ہیں اللہ تعالی نے ان کو یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائے کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اورکبھی دوسری شکل میں بہار شریعت حصہ اول صفحہ ٩٠ ( ناشر مکتبہ المدینہ دہلی ) اورشارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں فرشتوں کا جسم انسان کے جسم سے علیحدہ ہے ان کے معنی ہیں ان کی شکلیں کیا ہیں کہیں نظر سے نہیں گزرا البتہ انہوں نے یہ قدرت ہے کہ جو شکل چاہیں اختیار کرلےحدیث شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ الصلاۃ والسلام کو ان کی ملکوتی شکل میں دیکھا ان کے چھ سو بازو تھے ان سے موتی اور یاقوت جڑرہے تھے اتنے عظیم تھے کہ آسمان کے ایک کنارے سےدوسرے کنارے تک پھیلے ہوئے تھے (مسلم شریف) اور متعدد احادیث میں وارد ہے کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام عموما حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ تعالی عنہ کی شکل میں حاضر ہوتے تھے( فتاویٰ شارح بخاری ج١ ص٦٦٣ ( دائرالبرکات کریم الدین گھوسی)

واللہ اعلم باالصواب 

عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے