10.24.2020

مسجد میں اذان نہ ہو تو نماز کا کیا حکم ہے



 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی مسجد میں آذان نہ ہو تو کیا نماز ہو جائے گی یا نہیں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

المستفتی محمد دانش رضوی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


الجواب بعون الملک الوھاب

بغیر اذان کے نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی لیکن مکروہ ہوگی۔جس وجہ سے سبھی لوگ گنہگار ہونگے۔جیسا بہار شریعت میں ہے کہ فرض پنج گانہ کہ انھیں میں جمعہ بھی ہے، جب جماعت مستحبہ کے ساتھ مسجد میں وقت پر ادا کیے جائیں تو ان کے لیے اَذان سنت مؤکدہ ہے اور اس کا حکم مثل واجب ہے کہ اگر اذن نہ کہی تو وہاں کے سب لوگ گنہگار ہوں گے یہاں تک کہ امام محمد رحمہ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا اگر کسی شہر کے سب لوگ اَذان ترک کردیں ، تو میں ان سے قِتال کروں گا اور اگر ایک شخص چھوڑ دے تو اسے ماروں گا اور قید کروں گا۔ مسجد میں بلا اَذان و اِقامت جماعت پڑھنا مکروہ ہے۔( حوالہ بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ نمبر 464 اذان کا بیان ناشر مکتبہ المدینہ باب المدینہ کراچی دعوت اسلامی۔) گاؤں میں مسجد ہے کہ اس میں اَذان و اِقامت ہوتی ہے، تو وہاں گھر میں نماز پڑھنے والے کا وہی حکم ہے، جو شہر میں ہے اور مسجد نہ ہو تو اَذان و اِقامت میں اس کا حکم مسافِر کا سا ہے۔ حوالہ ایضا


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۳۰ صفر المظفر ۱۴۴۲ ہجری ۱۸ اکتوبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only