10.24.2020

کیا یا رسول اللہ میرے دل کو پلٹ دیجئے یہ کہنا شرک ہے



 السلام عليكم ورحمة الله وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس سلسلے میں  کہ زید نے ایک مجمعے میں یہ کہا کہ یارسول اللہ صلى الله عليه وسلم میرے دل کو پلٹ دیجئے بکر جو کہ عالم ہے اس نے کہا کہ زید نے شرک کیا اس لئے کے یا رسول اللہ میرے دل کو پلٹ دیجئے یہ کہنا شرک ہے  کیا بکرکا یہ قول درست ہے یا نہیں؟ دلیل کی روشنی میں جواب عنایت کرے بينوا توجروا

المستفتی محمد عبد القیوم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب 

بکرعالم نہیں بلکہ جاھل وفتنہ ہے اور اس کے اس جملے سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ بد مذہب ہے الحمدللہ اھل سنت کے نزدیک یا رسول اللہ کہنا بالاتفاق جائز ہےجس طریقےسےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ظاہری میں یارسول اللہ کہکرمددوغیرہ واسطےپکارناصحابہ کامعمول تھااسی طریقےسے وصال کے بعد انہیں پکارناصحابہ کامعمول تھااور صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تک تمام امت میں راٸج ومعمول ہے حتی کہ نمازمیں بھی التحیات میں ہے السلام علیک ایھاالنبی ورحمةاللہ وبرکاتہ اگر بعد وصال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےندا کرنا حرام یا شرک ہوتا تو نماز میں جائز نہ ہوتا جو چیز نماز کے باہرحرام یاشرک ہے نماز میں بدرجہ اولی حرام اور شرک ہو گی بلکہ اور بڑھ کر بلکہ وہ چیز نماز کو فاسد کرنے والی ہو گی بلکہ اگر وہ چیز شرک ہے وہ ایمان کو لے ڈوبے گی مثلا نماز کے باہر بت پوجنا شرک ہے تو نماز میں بدرجہ اولی شرک ہوگا بلکہ اس سے بڑھ کر شرک ہوگا اس لئے ماننا پڑے گا کہ جب نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ندادینا جاٸزہے تو نماز کے باہر بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا اسے شرک بتانا سارے جہان کے مسلمانوں کو مشرک ٹہرانا ہوگاعلامہ علی بن احمد بن حجر عسقلانی تحریر فرماتےاصاب الناس قحط فی زمن عمررضی اللہ عنہ فجإرجل الیٰ قبرالنبیﷺفقال یارسول اللہ ﷺ استسق لامتک فانھم قدھلکوافاتی الرجل فی المنام فقیل لہ اٸت عمراقراہ السلام واخبرھم انھم یسقون ( فتح الباری  ج٢  ص٤١٢) اور دلائل النبوةکی روایت میں ہے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں قحط پڑا ایک صاحب یعنی حضرت بلال بن حارث مزنی صحابی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار اقدس پر حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ امت کے لئے اللہ تعالی سے پانی مانگیے کہ وہ ہلاک ہوتے جا رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انکے خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا عمر کے پاس جا کر اسے سلام پہنچاٶ لوگوں کو خبر دے کہ بہت جلدی پانی برسے گا اس حدیث جلیل کواسنادصحیح کےساتھ امام ابوبکر بن ابی شیبہ استاذامام بخاری ومسلم نےاپنےمصنف میں اورامام بیہقی نےدلاٸل النبوةمیں سندصحیح کےساتھ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے خاص دن مالک داری سے روایت کیا ہے اس کے علاوہ حضرت امام مالک نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ ظاہر ہے جب حاضر ہو تو یہ کہے السلام علیک ایھاالنبی ورحمة اللہ وبرکاتہ ان سب روایات سے ثابت ہوا کہ وصال کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کو نداکرنا جائز صحابہ کرام کا اس پر عمل تھا( زرقانی  علی المواجب ج٢ ص٣٠٦حوالہ فتاویٰ شارح بخاری ج١ ص٢٨٤) نوٹ مذکورہ دلاٸل مقدسہ سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ندا کرنا مدد کے واسطے پکارنا جائز ہے آپ کی حیات ظاھری میں بھی اوربعدوصال بھی


واللہ اعلم باالصواب 


کتبہ عبید اللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارالرقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only