کیا جو کاروبار کرتا ہو تو کیا وہ نماز چھوڑ سکتا ہے

 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا کوئی اگر کاروبار کرتا ہو جیسے کہ وہ سبزی لگاتا ہے بازار میں تو کیا تو نماز کو ترک کر سکتا ہے کیونکہ اگر وہ دکان چھوڑ کر جائے گا تو ہو سکتا ہے کہ اسکا کافی نقصان ہو جائے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی


المستفتی محمد ساجد رضا رضوی مقام بندکی فتح پور الھنـــد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


الجواب بعون الملک الوھاب


صورت مسئولہ نماز ہرگز ہرگز ہرگز ترک نہیں کر سکتا ہے بلکہ اسے ادا ہی کرنا ہوگا حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جس نے ایک وقت کی نماز چھوڑ دی اس کا نام جہنم کے اس دروازے پر لکھ دیا تھا ہے جس سے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور وہ تب تک نہیں مٹایا جائے گا جب تک قضا نہ پڑھ لیں اور یہ جو بہانہ بنا رہے ہیں کہ اگر دکان کو بند کر دیگا تو بہت کا نقصان ہو جائے گا سراسر غلط ہے کیونکہ جو اس کی قسمت میں رہے گا وہی ملے گا۔ نہ اس سے کم مل سکتا ہے اور نہ اس سے زیادہ۔ایک مختصر واقعہ بیان کرتا ہوں تاکہ سبق ملیں ہمارے اسلامی بھائیوں کو اور یہ جو بہانہ بنا رہے ہیں کہ وہ بند کر دیں۔ ایک کافر تھا جس کا دکان مسجد کے پاس ہی تھا جب اذان ہوتی تو اس وقت سے لے کر جب تک نماز مکمل ختم نہ ہوجاتی اتنے دیر تک دکان کو نہیں کھولتا تھا اگر چہ کوئی مسافر آجاتا اور کچھ سامان لینے کے لئے پھر بھی نہیں دیتا تھا اور کہتا تھا کہ جب نماز ہو جائے گی تو ہی دونگا پہلے نہیں۔ تو اس کا سبب پوچھا تو بتایا کہ میں نماز کے وقت اس لئے بند کرتا ہوں تاکہ زیادہ منافع ہو اور مجھے زیادہ کیا دس سے زیادہ دو گناہ منافع ہوجاتا ہے یہ اسی نماز کی برکت ہے کیونکہ میں جب اس سے پہلے نماز کے وقت دکان کھولا رہتا تھا تو مجھے کبھی سو روپیہ تو کبھی دو تین سو ہی ہوتا تھا لیکن جب سے نماز کے وقت دوکان بند کر دیتا ہوں تو ایک ہزار دو ہزار کبھی کبھی تو پانچ تک بھی پہنچ جاتا ہوں اس لئے نماز کے وقت کسی کو کوئی سامان نہیں دیتا میرے پیارے اسلامی بھائیوں دکان سے چلا جاؤں گا تو نقصان ہوجائے گا یہ بہانہ نہ بنائے بلکہ نماز چھوڑنے پر بہت نقصان ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور آخرت میں جب عذاب ہوگا تو انتہائی درد ناک ہوگا۔


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۰۱ ربیع الغوث ۱۴۴۲ ہجری ۱۷ نومبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز منگل۔

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0