11.15.2020

کیا منگل کے دن کپڑا کاٹنے سے منع کیا گیا ہے



 السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ

ایک صاحب نے کہا کہ منگل کے دن کپڑا نہیں کاٹنا چاہئے اور کہا کہ ملفوظات اعلیٰ حضرت میں ایسا لکھا ہے تو کیا واقعی نہیں کاٹنا چاہیے اسکی کیا وجہ ہے اور درزی جو کاٹتے ہیں اس کے لئے بھی ایسا ہی کہا جائے گا رہنمائی فرمادیجئے

حافظ توحید عالم اشرفی پٹنہ بہار

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب۔ 

جی ہاں یہ واقعہ ملفوظات اعلی حضرت میں لکھا ہے مگر نفس واقعہ کو صرف پڑھنا کمال نہیں سمجھنا کمال ہےحضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ منگل کے دن کپڑا کاٹنے کے متعلق یوں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا ارشاد ہے جو کپڑا منگل کے دن قطع ہو وہ جلے گا یا ڈوبے گا یا چوری ہو جائے گا (ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ دوم صفحہ 268/ مکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی )ہاں اگرکوئی منگل کےدن سلنے کے لئے کپڑا کاٹےگاگنہ گار نہیں ہوگالیکن ممکن حدتک کاٹنے سےبچے یہی بہتر ہے اور منگل کے دن کپڑا نا کاٹنے کی وجہ تسمیہ حضرتِ مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فرمان عالیشان سے واضح ہے


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب


کتبہ فقیر محمـد مـــعــصوم رضـــا نوریؔ عفی عنہ ۱۸ ربیع الاوّل شریف ٢٤٤١؁ھ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only