12.24.2020

کیا سسر اپنے بہو سے نکاح کر سکتا ہے

 


السلام علیکم و رحمة اللّٰه برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ باپ اپنے بیٹے کے انتقال کے بعد اور کوئی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اپنی نسل آگے بڑھانے کے لئے۔ کیا اپنے مرحوم بیٹے کی بیوی سے نکاح کرسکتا ہے ؟ جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا


 المستفتی محمد کلام رضا نوری گوپال گنج ممبر آف 2️⃣گروپ یارسول اللہ ﷺ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

باپ کے لئے ان کے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنا حرام ہے یعنی اپنی بہو سے۔ رب العالمین قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ اس سے معلوم ہوا کہ منہ بولے بیٹوں کی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے اور رضاعی بیٹے کی بیوی بھی حرام ہے کیونکہ وہ نسبی بیٹے کے حکم میں ہے اور پوتے پر پوتے بھی بیٹوں میں داخل ہیں۔۔۔

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری خادم دارالافتاء سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۲۰ ربیع الغوث؛۰۶ دسمبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز اتوار۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only