حیض کی حالت میں قرآن مجید کو دیکھنا کیسا ہے



السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت والجماعت اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت دوران حیض قرآن مجید کو دیکھ سکتی ہے؟ جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔


المستفتی شگفتہ ناز۔اسلامی معلومات گروپ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

حالت جنب میں قرآن مجید دیکھنا جائز ہے اب چاہے وہ مرد ہو یا عورت البتہ اس کا پڑھنا جائز نہیں۔ میرے آقا اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ در مختار کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں کہ دُرمختار میں ہے: لایکرہ النظر الی القراٰن لجنب کما لا تکرہ ادعیۃ ای تحریما والا فالوضوء لمطلق الذکر مندوب وترکہ خلاف الاولٰی۔اھ جنبی کے لئے دُعائیں پڑھنے کی طرح قرآن پاک کو دیکھنا بھی مکروہ نہیں اور اس سے مکروہ تحریمیہ مراد ہے ورنہ مطلق ذکر کےلئے وضو کرنا مستحب ہے اور اس کا چھوڑنا خلافِ اولٰی ہے۔ (حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج ۴ ص ۵۲۷ رضا فائونڈیشن لاہور) اور مصنف بہار شریعت حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ قرآنِ مجید دیکھنے میں ان سب پر (یعنی جنب شخص) کچھ حَرَج نہیں اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں آئیں اور خیال میں پڑھتے جائیں (حوالہ بہار شریعت ج ۱ ح ۲ ص ۳۲۷ ناشر مکتبہ المدینہ کراچی دعوت اسلامی)


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری خادم دارالافتاء سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۲۲ ربیع الغوث ۱۴۴۲ ہجری ،، ۰۸ دسمبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز بدھ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے