سلام کے جواب میں کچھ زائد لفظ کا استعمال کرنا کیسا ہے



 اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ  

علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کسی نے مجھ سے سلام کیا تو میں نے جواب میں یہ بولا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وہ مغفرت وہ فضلو ہوں و شفاعتوں کیا یہ درست ہے جواب عنایت فرمائیں بھائی مہربانی ہوگی مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

المستفتی محمد عبد الرحمن مقام بندکی فتح پور الھنـــد 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

جب بھی کسی مسلمان سے ملاقات ہوتو اسے ان الفاظ سے سلام کیا جائے :اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ اور جسے سلام کیا جائے وہ جواب میں کہے و َعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ وَبَرَکَاتُہٗ جیسا کہ بہار شریعت میں ہے بہتر یہ ہے کہ سلام میں رحمت و برکت کا بھی ذکر کرے یعنی اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکاتُہٗ کہے اور جواب دینے والا بھی وہی کہے بَرَکاتُہٗ پر سلام کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد اور الفاظ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔حوالہ بہار شریعت ج ۳ ح ۱۶ ص ۶۵۹ مکتبہ المدینہ کراچی۔اور فتاوی رضویہ شریف میں ہے: کم از کم السلام علیکم اوراس سے بہتر ورحمۃ اللہ ملانا اور سب سے بہتر وبرکاتہ شامل کرنا اور اس پر زیادت نہیں۔ پھرسلام کرنے والے نے جتنے الفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اعادہ تو ضرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے۔ اس نے السلام علیکم کہا تویہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے۔ اورا گر اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا تو یہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اوراگر اس نے وبرکاتہ تک کہا تویہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زیادت نہیں۔( حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج ۲۲ ص ۴۰۹ رضا فائونڈیشن لاہور ) 


۔واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


کتبـــــــــــــــــــــــــــہ فقیر محمد اشفاق عطاری خادم دارالافتاء سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۰۵ جمادی الاول ۱۴۴۲ ہجری،، ۲۱ دسمبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز پیر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے