اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

اگر کسی کا انتقال ہوجاۓ تو کیا عورت اسے ہاتھ لگا سکتی ہیں



 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کا انتقال ہوجاۓ تو پھر عورتيں اس کو ہاتھ لگا سکتی ہیں یا نہیں جواب عنایت فرمائے مہربانی ہوگی

المستفتی محمد شعیب خان ممبر آف گروپ 1️⃣یارسول اللہ ﷺ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

کسی میت کو اجنبی عورتوں کو ہاتھ لگانا جائز نہیں اور اگر کوئی مرد نہ ہو اور اس کی بیوی نہ ہو اور محرم عورتیں بھی نہ ہو تو غیر محرم عورتیں اپنے ہاتھ میں کپڑا لپیٹ کر کے میت کے ہاتھ پیر وغیرہ سیدھا کرسکتی ہیں جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں مرد کا انتقال ہوا اور وہاں نہ کوئی مرد ہے نہ اُس کی بی بی تو جو عورت وہاں ہے اُسے تیمم کرائے پھر اگر عورت محرم ہے یا اُس کی باندی تو تیمم میں ہاتھ پر کپڑا لپیٹنے کی حاجت نہیں اور اجنبی ہو تو کپڑا لپیٹ کر تیمم کرائے عالمگیری( بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ 135


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


العبد محمد عمران قادری تنویری عفی عنہ 19 ربیع الثانی 1442//7 دسمبر 2020

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست