12.05.2020

ایک ملک کی کرنسی دوسرے ملک میں کچھ کم رقم میں لینا کیسا ہے

 


اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ملک کی کرنسی دوسرے ملک کی کرنسی سےاس کے متعین ریٹ سے کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنا کیسا ہے؟ مثلا ایک ڈالر کی قیمت انڈین روپیے میں ستر روپئے ہے جبکہ اسے انہتر روپئے میں لیا گیا ایسا کرنا کیسا ہےبحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

المستفتی محمد تابش رضوی مقام خیری فتح پور الھنـــد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب


کرنسی حقیقت میں یہ ایک کاغذ اور اصطلاح میں ثمن ہے اس لیے ایک ملک کی کرنسی دوسرے ملک کی کرنسی سے متعین رقم یا کمی بیشی کے ساتھ جتنے پر جانبین راضی ہو جائیں تو اس کا بیچنا جائز ہےجیسا کہ شیخ الاسلام و المسلمین سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی اللہ الرحمٰن عنہ نے اپنے رسالہ کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم میں تحریر فرماتے ہیں کہ یجوز بیعہ بازید من رقم و بانقص منہ کیفھا تراضیا یعنی نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر رضامندی ہو جائے اس کا بیچنا جائز ہے ( فتاوی رضویہ جلد ہفتم صفحہ 140 ) ( الماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ 199) 

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کتبہ العبد محمد عمران قادری تنویری عفی عنہ 18ربیع الثانی 1442////4 دسمبر 2020

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only