1.11.2021

امام قعدہ اولیٰ میں بھول گیا اور مقتدی نے لقمہ دے دیا تو نماز کا کیا حکم ہے


 السلام علیکم ورحمة اللہ وبر کا تہ 

کیا فر ما تے ہیں علما ءکرا م ومفتیا ن عظا م مسئلہ ذیل کے با رے میں کہ عشاء کی نماز میں امام نے دوسری رکعت کا دوسرا سجدہ کر نے کے بعد قعدہ چھو ڑ کر مکمل کھڑا ہو گیا اس کے بعد مقتدیو ں نے لقمہ دیا اور اما م نے لقمہ لے لیا اور لو ٹ کر تشہد پڑ ھا اس کے بعد چار رکعت پو ری کر کے آخر میں سجدہ سہو کیا تو نماز ہو ئی یا نہیں اور مقتدیو ں کا اسوقت لقمہ دینا اور امام کا لو ٹنا درست ہے یا نہیں با حوا لہ جواب عنا یت فر ما ئیں کر م نوا زی ہو گی


سا ئل شمیم اختر میر گنج ضلع اورنگ آبا د بہا ر

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب 

صورت مسٶلہ میں امام ومقتدی سب کی نماز فاسد ہوگٸ مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں امام قعدہ اولی بھول کر سیدھا کھڑا ہو گیا اس کے بعد مقتدی کے لقمہ دینے سے بیٹھ گیا اور امام کی پیروی میں مقتدی بھی بیٹھ گئے تو کسی کی نماز نہ ہوئی سب کی نماز باطل ہوگی اس لیے کہ سیدھا کھڑا ہونے کے بعد بیٹھنا گناہ ہےدرمختار مع شامی جلد ١ص٥٠٠ میں ہے ان استقام قاٸما لایعود فلو عادالیٰ القعود تفسد صلاتہ وقبل لاتفسد لکنہ یکون مسٸیا وھو الاشبہ کما حققہ الکمال وھو الحق بحراو ردالمحتار میں ہےقولہ لکنہ یکون مسیٸا ای ویاثم کما فی الفتح لہذا مقتدی نے امام کو لقمہ دے تو اس کی نماز فاسد ہوگی امام نے لوٹا دو نماز سے خارج تھا تو اس کی نماز باطل ہوگی اور مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہوگی (ماخوذ فتاویٰ فیض الرسول ج١ ص٣٨٦تا٣٨٧) ہاں اگر امام قیام میں پہچنے کےبعد مقتدی کے لقمہ کےذریعہ قاعدہ کی طرف عود نہ کرتا اور اخیر میں سجدہ سہو کر لیتا تو نماز سب کی ہوجاتی مگر اس مقتدی کی نہ ہوتی کہ جس نے لقمہ دیا


واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ عبیداللہ رضوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only