مسجد کی زمین بیچنا اور اسے خریدنا کیسا ہے




 السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک قریبی دوست جن کا نام محمد مصطفےٰ میا (چولی ہار) جو کہ گودار گاؤں ضلع دھنوشا جنکپور پردیش نمبر ٢ نیپال کے رہنے والے ہیں حال مقیم: دوحہ قطر ان کایہ مسئلہ ہےوہ یہ کہ لگ بھگ 10 سنی مسلمان کافروں کی آبادی والے چھوٹا سا ٹولہ یعنی (محلہ) میں رہتے ہیں اور زیادہ تر کافروں کی باتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے اس لئیے دھیرے دھیرے ایک ایک کر کے مسلمان دوسرے بڑے آبادی والے مسلم ٹولہ محلہ میں چلے گئے۔ تاکہ ہر چیز کے لئے آسانی ہو ۔اور وہاں پر انھوں نے ایک عبادت گاہ بھی قائم کرلیا ہے جس میں نماز اور بچوں کی تعلیم بھی ہوتی ہے اب۔ گودار گاؤں کی زمین جو کہ بنام مصلہ عبادت گاہ قائم کی گئی تھی (١٠ دس دھور زمین ہے) بغیر چھت و بغیر منارہ نماز خانہ جس میں نمازِ باجماعت و جمعہ و تراویح اور مکتب کی شکل میں بھی کام لیا جاتا رہاتقریباً ایک دو سال سے وہ زمین ویران پڑی ہے ۔اب وہ زمین کو بیچنے کا اعلان کیا گیا، تاکہ نئی جگہ جہاں پر عبادت گاہ بنایاگیا ہے، اس کی اِن پیسوں سے اچھی طرح تعمیر کی جاسکے۔ تو ایک کافر جو پیشہ سے چمار (ذات) ہے وہ تیار ہو گیا اور قیمت لگائی اور قیمت بتائی گئی سترہ لاکھ نیپالی روپیہ1700000NPR₹کافر بولا  مجھے بارہ لاکھ نیپالی روپیہ 1200000NPR₹میں دے دوکئی دنوں کے بعد محلہ والوں نے ( محمد مصطفےٰ میا چولی ہار)کو فون کیا محلہ دار ہونے کے ناطے جو (قطر 🇶🇦) میں رہتا ہے اس کو پورا ماجرا بتایا تب محمد مصطفےٰ میاں نے کہا کہ آپ لوگ یہ زمین کو کافروں سے مت بیچو بلکہ وہ جگہ پندرہ لاکھ نیپالی NPR.1500000₹میں دے دو، اگر آپ یہ زمین کافر کو بیچتے ہیں تو یہ بھی جان لیجئے کہ شاید بعد میں ناجانے کیا کیا بت پرستی خرافات یا کفریہ کلمات کیسے کیسے فساد کرے ۔میں یہاں رہنے لگوں توانشآءاللّٰہ بعد میں مسلم آبادی بڑھنے لگے‌کیا وہ مسلم شخص وہ زمین خرید سکتا ہے ؟ اور اپنا گھر بنانا سکتا ہے؟ یا وہ زمین کافر کو بیچ دی جائے؟مدلدل جواب عنایت فرما کر مشکور ہونے کا موقع دیں جزاک اللہ خیراً کثیرا28/01/2021

المستفتی طلبگار حافظ و قاری : گلاب حسن صدیقی مقام: بسبٹی: رام گوپال پور نگرپالیکا١ : مہوتری: جنکپور پردیش نمبر ٢:نیپال 🇳🇵حال مقیم: دوحہ قطر 🇶🇦موبائل نمبر:📞  

974-74409210


وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اولی آپ یہ اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ اگر صاحب زمین نے صرف نماز پڑھنے کے لئے عارضی طور پر زمین دی وقف نہیں کی تو پھر صاحب زمین کو اختیار ہے کہ وہ جیسے چاہے بیچ سکتا ہے (کتب فقہ و فتاویٰ) لہذا ایسی صورت میں کافر کو نہ دیکر مسلمان کے ہاتھوں وہ زمین بیچے زیادہ بہتر ہوگالیکن اگر صاحب زمین نے وقف کے طور پر وہ زمین مسجد کے لئے دی یا لوگوں کے چندے سے مسجد ہی کے لئے خریدا گیا تو پھر وہ تا قیامت تک مسجد ہی مانی جائے گی جیسا کہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ اپنی مشہور و معروف کتاب بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ مسجد کے آس پاس جگہ ویران ہوگئی وہاں لوگ رہے نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھیں یعنی مسجد بالکل بیکار ہوگئی جب بھی وہ بدستور مسجد ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اسے توڑ پھوڑ کر اسکے اینٹ پتھر وغیرہ اپنے کام میں لائے یا اسے مکان بنالے یعنی وہ قیامت تک مسجد ہے(بہار شریعت جلد 02 صفحہ نمبر 561 مکتبۃ المدینہ کراچی)اور آگے تحریر فرماتے ہیں کہ وقف کو نہ باطل کرسکتاہے نہ اس میں میراث جاری ہوگی نہ اسکی بیع ہوسکتی ہے نہ ہبہ ہوسکتا ہے ( بہار شریعت جلد 2 حصہ 10 ص 523 وقف کا بیان )اور اسی کا طرح کے ایک سوال کے جواب میں ملفوظات اعلی حضرت میں ہے عرض ایک گاؤں میں مسجد بالکل ویرانہ میں ہے اس کے متصل ایک کمہار (یعنی مٹی کے برتن بنانے والے) کا مکان ہے مسجد مذکور میں نماز بھی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے اِردگرد لوگ کوڑا وغیرہ ڈالتے ہیں وہ کمہار زمین مسجد کو خریدنا چاہتا ہے آیا اس کی بیع (یعنی خرید وفروخت)ہوسکتی ہے یا نہیں؟ارشاد حرام ہے (الفتاوی الھندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی العشر فی المسجد،جلد 02 صفحہ 457) اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قُرآنِ عَظِیْم فرماتا ہےلَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ۚۖ وَّلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿41﴾دنیا میں ان کے لئے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب۔(پارہ 06 سورۃ المائدۃ آیت نمبر 41)(ملفوظات اعلی حضرت صفحہ نمبر 348 مکتبۃ المدینہ کراچی)لہذا ان تمام دلائل سے صاف ظاہر ہے کہ نہ وقف کی زمین یا لوگوں کے چندے سے مسجد کے لئے خریدی گئی زمین دونوں صورت میں اس زمین کو نا خریدا جا سکتا ہے اور نہ بیع کی جا سکتی ہے لیکن اگر وقف نہیں تو صاحب زمین کو اختیار ہے جیسے چاہے بیچ سکتا ہے اول مسلمان کو بیچنا افضل ہے 


واللہ و رسولہ اعلم باالصواب


کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمۃ اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے