3.20.2021

عامل بننا کیسا ھے؟ نیز حساب کرنا کیسا ؟

 


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماۓ دین عامل بننا کیسا ھے؟ نیز حساب کرنا کیسا ؟ کیا حساب کرنا صحابہ کرام علیھم الرضوان کے وقت سے بھی ثابت ھے؟ اور اسکی ناجائز صورتیں بھی ھیں؟ اور حساب کرکے اسکے مطابق تعویذات دینا کیسا ھے؟ مدلل جواب عنایت فرمایٸں❓

سائل۔۔محمد شبر پاکستان

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک العزیز الوہاب

عامل بننا ہر ایک کے لئے لازم و ضروری ہے کہ عمل سے ہی خاکی انسان نوری بنتا ہے قرآن پاک میں متعدد جگہ عمل کی ترغیب و حکم دیا گیا ہے قال اللہ تعالی وبشر الذین آمنوا و عملوا الصلحت ان لھم جنت تجری من تحتھا الانہاراور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں {کنز الایمان سورہ بقرہ آیت ٢٥ }و قال تعالی فی مقام آخر ان الذین امنوا و عملوا الصالحات لہم جنات تجری من تحتہا النہار واقعی وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور اگر عامل سے مراد کسی مخصوص آیت یا وظیفہ کا عمل کرکے اجنہ وغیرہ کو مسخر کرکے ان سے کام لینا ہے تو یہ کسی کے لئے ضروری نہیں بلکہ ان سے بچنا مناسب کہ بعض مواقع پر شراٸط میں بے توجہی کے سبب عمل باعث رجعت بھی ہو جاتا ہے جس سے خود کو نقصان بھی ہوتا ہے نیز حساب سے مراد فالنامہ ہے تو دیوان حافظ جیسی کتابوں سے سے بطور تفاٶل جائز ہے جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں فال ایک قسم کا استخارہ ہے استخارا کی اصل کتب احادیث میں بکثرت موجود ہے مگر یہ فال نامے جو عوام میں مشہور اور اکابر کی طرف منسوب ہیں بے اصل و باطل ہیں اور قرآن عظیم سے فال کھولنا منع ہے اور دیوان حافظ وغیرہ سے بطور تفاٶل جائز ہے  (فتاوی رضویہ جلد ١٥ صفحہ ٨٨ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی) لہذا بطور استخارہ فال دیکھ کر تعویذ دینا درست ہے جیسا کہ سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں جائز تعویز کہ قرآن کریم یا اسمائے الہیہ یا دیگر اذکار و دعوات سے ہو اس میں اصلا حرج نہیں بلکہ مستحب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی مقام میں فرمایا کہ من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ تم میں سے جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچا سکے پہنچائےاسمائے انبیاء و اولیاء علیہم الصلوٰۃ والثنا ٕ سے بھی تعویذ بطور تبرک وتوسل روا ہے کہ تابع ومظہر اسمائے الہیہ ہیں  (فتاوی رضویہ جلد ٢٢ صفحہ نمبر ٦٨٢ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی)  اور قرآن شریف سے فال دیکھنا یہ ناجائز و ممنوع ہےفتاوی رضویہ شریف میں ہے قرآن عظیم سے فال دیکھنے میں آئیمہ مذاہب اربعہ کے چار قول ہیں :بعض حنبلیہ مباح کہتے ہیں اور شافعیہ مکروہ تنزیہی اور مالکیہ حرام اور ہمارے علما ٕ حنفیہ فرماتے ہیں ناجائز و ممنوع اور مکروہ تحریمی ہے قرآن عظیم اس لیے نہ اتارا گیا ہمارا قول مالکیہ کے قریب ہے عند التحقیق دونوں کا ایک حاصل ہے امام قونوی نے فرمایا نجومی اور رسائل اور علم حروف کے مدعی کی پیروی جائز نہیں کہ وہ کاہن کے مثل ہیں اس علم حروف میں سے مصحف شریف کی فال ہے کہ قرآن مجید کھول کر پہلا صفحہ اور ساتویں صفحہ کی ساتویں سطر دیکھتے ہیں (جلد ٢٢ صفحہ نمبر ٦٨٠/٨٢ مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی) نیز فال کھول کر قطع و یقین سے کہنے والا کہ تیرا فلاں کام جائے گا یا تیرے لیے فلاں کام اچھا ہے یا برا ہے ، یا اس میں تجھ کو نقصان ہوگا، یا اس میں تجھ کو فائدہ ہوگا خارج عن اسلام ہے فتاوی رضویہ شریف میں ہے اگر یہ احکام { تمہارا کام ہو جائے گا یا یہ کام تمہارے واسطے اچھا ہوگا یا اس میں نفع ہوگا یا نقصان } قطع و یقین کے ساتھ لگاتا ہو تو وہ مسلمان نہیں اس کی تصدیق کرنے والے کو صحیح حدیث میں فرمایا قد کفر بما نزلہ علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اگر یقین نہیں کرتا جب بھی عام طور پر جو فال دیکھنا رائج ہے معصیت سے خالی نہیں (جلد ٢٣ صفحہ نمبر ١٠٠ مطبوعہ دعوت اسلامی) لہذا آج کل جو فال دیکھنا راٸج ہے اور اس پر یقین رکھنایہ جائز و درست نہیں بلکہ اس کی بعض صورتیں منجر الی الکفر و کفر بھی ہیں ہاں بطور استخارا دعا تعویذ دینا اس میں کوئی قباحت نہیں جیسا کہ مذکورہ بالا عبارات و اقوال سے ظاہر و باہر ہے

واللہ اعلم باالصواب 


کتبہ محمد ساجد چشتی شاہ جہاں پوری خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only