5.28.2021

کیا مردہ سنتا ہے اس پر دلیل کی حاجت ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مردہ سنتا ہے اس پر دلیل کی حاجت ہے براۓ کرم عطا کریں المستفتی محمد عابد حسین ساکن دتولی


    جواب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون المک الوھاب جی ہاں مردےقبر میں رہکر بھی قبرستان سے گزرنےوالوں کی آواز کو سنتےبھی ہیں اور پہچانتےبھی ہیں اور سلام کا جواب بھی دیتےہیں ۔۔۔۔ جیساکہ حدیث شریف میں حضرت انس سے راوی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے ۱؎ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں۲؎ پھر کہتے ہیں کہ تو ان صاحب کے متعلق کیا کہتا تھا یعنی محمد۳؎ تو مؤمن کہہ دیتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اﷲ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۴؎ تب اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنا دوزخ کا ٹھکانا دیکھ جسے اﷲ نے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ۵؎ تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے ۶؎ لیکن منافق اور کافر اس سے کہا جاتا ہے کہ ان صاحب کے بارے میں کہتا تھا ؟۷؎ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا جو لوگ کہتے تھے وہی میں کہتا تھا ۸؎ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ تو نے نہ پہچانا قرآن نہ پڑھا ۹؎ اور لوہے کے ہتھوڑوں سے مار ماری جاتی ہے جس سے وہ ایسی چیخیں مارتا ہے کہ سواء جن و انس تمام قریبی چیزیں سنتی ہیں ۱۰؎ (مسلم وبخاری)الفاظ بخاری کے ہیں۔ شرح ۱؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مردے سنتے ہیں،مردوں کا سُننا قرآنی آیات اور بے شمار احادیث سے ثابت ہے۔حضرت شعیب وصالح علیہما السلام نے عذاب یافتہ قوم کی نعشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا: " یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ"الآیہ۔ رب فرماتا ہے: "وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ "۔ یعنی اے محبوب! پچھلے پیغمبروں سے پوچھو،بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا گیا: "ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا" ذبح کیے ہوئے جانوروں کو پکارو دوڑتے ہوئے آجائیں گے،یہ حدیث سماع موتٰی کے لیے نصِّ صریح ہے،ہمارے حضور علیہ السلام نے بدر میں مقتول کفار کی لاشوں پر کھڑے ہو کر ان سے کلام کیا۔خیال رہے کہ مردے کا یہ سننا ہمیشہ رہتا ہے،اس لئے حکم ہے کہ قبرستان جاکر مردوں کو سلام کرو حالانکہ نہ سننے والوں کو سلام کیسا ؟ جن آیتوں میں سماع موتٰی کی نفی ہے وہاں مردوں سے مراد دل کے مردے یعنی کافر ہیں،اور سننے سے مراد قبول کرنا ہے اسی لیئے جہاں قرآن نے یہ فرمایا: "اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی" تم مردوں کو سُنا نہیں سکتے،وہاں ساتھ میں یہ بھی فرمادیا: "اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا" یعنی تم صرف مؤمنوں کو ہی سُناسکتے ہوجس سے معلوم ہوا کہ وہاں مردوں سے مراد کافر تھے۔ ماخذ مراة مناجیح جلد اول صفحہ ١٢٤ ۔۔۔ واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

محمد راحت رضانیپالی

نیپال ٢٧/٥/٢٠٢١

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only