6.01.2021

کافر سے بات چیت کرنا کیسا ہے؟؟؟

Gumbade Aala Hazrat
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کافروں سے بات چیت اور کاروبار کر سکتے ہیں کہ نہیں جواب حوالہ کے ساتھ ارسال فرمائیں

   ساٸل محمد فرمان رضا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 الجواب بعون الملک الوہاب

 سیدی سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں   کافر اصلی غیر مرتد کی وہ نوکری جس میں کوئی اَمر ناجائز شرعی کرنا نہ پڑے جائز ہے اور کسی دنیوی معاملہ کی بات چیت اس سے کرنا اور اس کے لئے کچھ دیر اس کے پاس بیٹھنا بھی منع نہیں اتنی بات پر(کسی مسلمان کو) کافر بلکہ فاسق بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ ہاں مرتد کے ساتھ یہ سب باتیں مطلقاً منع ہیں اور کافر اس وقت بھی(یعنی مرتد کے پاس نوکری کی وجہ سے بھی) نہ ہوگامگر یہ کہ اُس کے مذہب وعقیدہ ٔ کفر پر مطلع ہو کر اس کے کفر میں شک کرے تو البتّہ کافر ہو جائے گا بغیر ثبوت وجہ کفر کے مسلمان کو کافر کہنا سخت عظیم گناہ ہے بلکہ حدیث میں فرمایا کہ وہ کہنا اسی کہنے والے پر پلٹ آتا ہے والعیاذ بِاللّٰہ تعالیٰ

بحوالہ فتاوٰی رضویہ شریف جلد۲۳صفحہ نمبر ۵۹۱، ۵۹۲

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب 

   کتبہ العبـــد خاکســـار ناچیـــز محمـــد شفیـــق رضـــا رضـــوی خطیـــب و امـــام سنّـــی مسجـــد حضـــرت منصـــور شـــاہ رحمتـــ اللـــہ علیـــہ بـــس اسٹاپـــ کشـــن پـــور الھنـــد

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only